پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اس کی سماجی واقتصادی ترقی کا دارومدار زراعت پر ہے۔ ملکی شرح نمو میں زراعت کا حصہ تقریباً اکیس فیصد ہے اور پنتالیس فیصد سے زائد لوگوں کا روزگار بھی اسی شعبہ سے وابستہ ہے۔
زرعی ترقی میں پانی کی مناسب اور بروقت دستیابی کلیدی کردار ادا کرتی ہے، زرعی شعبے کی ترقی کیلئے سرمایہ کاری موجودہ حالات میں ناگزیر ہے کیونکہ پیداواری صلاحیت میں فرق آیا ہے جس کی ایک وجہ تو سیلابی صورتحال ہے جس سے لاکھوں ایکڑ فصلیں تباہ ہوئی ہیں ،غذائی اجناس کی قلت پیدا ہوئی ہے مگر موجودہ حکومت کی جانب سے زراعت کے شعبے کو خاص ترجیح دی جارہی ہے کسانوں کو ریلیف فراہم کرنے کے ساتھ دیگر وسائل بھی فراہم کئے جارہے ہیں تاکہ زرعی پیداوار میں اصافہ ہو ،ملکی غذائی اجناس کی ضروریات پوری ہونے کے ساتھ دیگر ممالک میں پاکستانی غذائی اجناس مارکیٹوں تک پہنچائی جاسکیں جس سے قومی خزانے کو بھی فائدہ پہنچے۔
بیجنگ میں پاکستان اور چین کے درمیان 4 ارب ڈالر کی زرعی مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کرلیے گئے۔
وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی کے مطابق بیجنگ میں وفاقی وزیرنیشنل فوڈ سکیورٹی رانا تنویر حسین کی چینی کمپنیوں سے ملاقاتیں ہوئیں، رانا تنویرحسین کی موجودگی میں تاریخی زرعی معاہدوں پر دستخط ہوئے۔
زرعی شعبے میں 4 ارب ڈالر مالیت کی24 ایم او یوزپر دستخط کیے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کا کہنا ہے کہ زرعی تعاون پاکستان کے غذائی تحفظ اور برآمدی صلاحیت کو دوگنا کرے گا، چین کی215 ارب ڈالرکی زرعی درآمدات میں پاکستان کے لیے بڑے مواقع موجود ہیں۔
رانا تنویر کا کہنا ہے کہ پاکستان عالمی منڈی کے مقابلے میں کم قیمت پر زرعی اجناس فراہم کرسکتا ہے۔ چین کے ساتھ زرعی شعبیمیں معاہدے سے پاکستان میں زراعت کے شعبے کو بھرپور فائدہ پہنچے گا جو ملکی غذائی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے گا اور غذائی اجناس کی قیمتوں میں کمی بھی آئے گی جس سے عوام کو سستے داموں غذائی اجناس مارکیٹ سے ملیں گی جبکہ عالمی منڈیوں تک بھی پاکستانی غذائی اجناس کی رسائی ممکن ہوسکے گی۔
کسانوں، زمینداروں کی زمینیں آباد ہونگی جس سے ان کی مشکلات میں کمی آئے گی،