کراچی: کراچی میں بارش کے خوشگوار موسم سے شہری لطف اندوز ہورہے ہیں۔ کہیں شہری ساحل سمندر کا رخ کررہے ہیں
تو کہیں گھروں میں مزیدار پکوانوں سے موسم کو انجوائے کیا جارہا ہے۔ لیکن ان ہی دنوں بلوچ شہری اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاجی کیمپوں میں بیٹھنے پر مجبور ہیں۔کراچی پریس کلب کے باہر جبری گمشدگیوں کے خلاف جاری احتجاجی کیمپ پیر کو اپنے 35 ویں روز میں داخل ہوگیا۔
اس موقع پر لاپتہ نوجوان زاہد علی بلوچ کے والد عبدالحمید بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ شدید بیماری کے باوجود احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جگر کے مرض میں مبتلا ہیں اور بیٹے کی جبری گمشدگی نے ان کی بیماری کو مزید بڑھا دیا ہے۔عبدالحمید بلوچ نے بتایا کہ زاہد نے حال ہی میں کراچی یونیورسٹی کے شعبہ انٹرنیشنل ریلیشنز سے گریجویشن مکمل کیا تھا۔
روزگار نہ ملنے پر وہ محنت مزدوری کرتے ہوئے رکشہ چلاتا تھا تاکہ گھر کے اخراجات پورے کرسکے۔ والد کے بقول: “میرا بیٹا محنت کش اور بے ضرر نوجوان تھا، جو اپنی فیملی کا سہارا بنا ہوا تھا، لیکن آج وہ ہم سے چھین لیا گیا ہے۔
اگر اْس پر کوئی الزام ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے۔ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔
“انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں سے متعدد بلوچ نوجوان لاپتہ ہیں، جن میں ماری پور اور لال بکھر ہاکس بے سے تعلق رکھنے والے شیراز بلوچ، سیلان بلوچ، سرفراز بلوچ، رمیز بلوچ، رحیم بخش بلوچ اور رحمان بلوچ شامل ہیں۔ لواحقین کے مطابق ان نوجوانوں کی جبری گمشدگی سے نہ صرف خاندان ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں بلکہ معاشی مسائل میں بھی گھر گئے ہیں۔
احتجاجی کیمپ میں شریک دیگر لواحقین نے بھی حکومت اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا کہ لاپتہ نوجوانوں کو فوری طور پر منظر عام پر لایا جائے تاکہ ان کے گھروں میں جاری اذیت اور کرب کا سلسلہ ختم ہوسکے۔