|

وقتِ اشاعت :   September 11 – 2025

اسرائیل نے قطر میں فضائی حملہ کر کے حماس کے سینئر رہنماؤں کو نشانے بنانے کا دعویٰ کیا تاہم خلیل الحیہ محفوظ رہے لیکن ان کے بیٹے اور معاون سمیت 6 افراد شہید ہو گئے۔
اسرائیلی میڈیا نے اعلیٰ اسرائیلی حکام کے حوالے سے بتایا کہ قطر میں حماس کی قیادت پر حملہ کیا گیا جن میں خلیل الحیہ اور جابرین شامل ہیں۔
اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی عہدیدار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر میں حماس کی قیادت پر حملے کی اجازت دی۔
حماس کے مطابق حملے کا نشانہ حماس کی مذاکراتی ٹیم تھی۔
یہ حملہ اْس وقت ہوا جب حماس کے مذاکراتی ٹیم امریکا کی جانب سے پیش کی گئی تازہ ترین جنگ بندی کی تجویز پر غور کرنے کے لیے ملاقات کر رہے تھے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق حماس کے سیاسی بیورو کے رکن سہیل الہندی کا کہنا ہے کہ سینئر رہنما خلیل الحیہ اور دیگر حماس رہنماؤں کو شہید کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ لیکن اس اسرائیلی حملے میں خلیل الحیہ کے صاحبزادے ہمام اور ان کے اعلیٰ معاونین میں سے ایک شہید ہو گئے جبکہ تین دیگر باڈی گارڈز سے رابطہ بھی منقطع ہو گیا ہے۔
سہیل الہندی کے مطابق خلیل الحیہ کے بیٹے ہمام الحیہ ، الحیہ کے دفتر کے ڈائریکٹر جہاد لبد، عبداللہ عبد الواحد (ابو خلیل)، معمن حسونہ (ابو عمر)، احمد المملوک (ابو مالک) شہید ہوگئے۔
اس کے علاوہ قطر کی اندرونی سیکیورٹی فورسز کے رکن کارپورل بدر سعد محمد الحمایدی بھی حملے میں شہید ہوئے۔ حماس رہنما سہیل الہندی نے قطر کے نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دوحہ میں ہونے والا حملہ بنیادی طور پر حماس اور قطر کو نشانہ بنانے کے لیے تھا لیکن یہ دراصل تمام عربوں، مسلمانوں اور دنیا بھر کے آزاد لوگوں پر جارحیت ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد دنیا کو اس سنگین جرم یعنی غزہ پر جنگ ختم کرنے پر بات کرنے والوں کو قتل کرنے کی کوشش کو مسترد کرنا چاہیے۔
سہیل الہندی نے اسرائیل کے فلسطینیوں پر حملوں کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا، انہوں نے کہا کہ محض مذمتی اور بیانات کافی نہیں ہیں۔
قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ مجرمانہ حملہ تمام بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور قطری شہریوں اور قطر میں مقیم افراد کی سلامتی و تحفظ کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
یہ حملہ ایک رہائشی عمارت پر کیا گیا جہاں حماس کے سیاسی بیورو کے متعدد ارکان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مقیم ہیں۔
اسرائیل کا قطر میں حملہ ایک تو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے جبکہ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل کسی صورت بھی مشرق وسطیٰ میں امن نہیں چاہتا اور اس کا مقصد غزہ پر قبضہ کرنا ہے، فلسطینیوں پر جارحیت جاری رکھنا ہے۔
اب مسلمان ممالک اور عالمی برادری کو اسرائیل کے اس اقدام کے خلاف سخت ردعمل دینا ہوگا اگر اب بھی محض چند بیانات اور مذمت پر اکتفا کیا گیا تو اسرائیلی جارحیت دیگر ممالک تک پھیلے گیجس کے نتائج بہت ہی خطرناک نکلیں گے جو پورے عالمی امن کو تہہ و بالا کردے گا۔
لہذا امن کوششوں پر زور دیا جائے اور اسرائیلی جارحیت کو روکنے کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ جنگ سے مزید تباہی نہ پھیلے جو انسانی بحران کا سبب بنے۔