حب: ماہیگیروں نے ایک بار پھر حکومتِ بلوچستان اور اعلیٰ حکام کو سخت الفاظ میں متنبہ کیا ہے کہ ٹرالر مافیا نے سمندر کو لوٹ کا بازار بنا دیا ہے۔
غیر قانونی ٹرالنگ کے باعث مقامی ماہیگیر روزگار سے محروم ہو رہے ہیں جبکہ فشریز ڈپارٹمنٹ کے افسران رشوت اور جیب گرم کرنے میں مصروف ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وزیر کوآپریٹو و زراعت میر علی حسن زہری، سیکرٹری فشریز طارق قمر اور چیئرمین بلوچستان فشرمینز کوآپریٹو سوسائٹی لمیٹڈ اگر واقعی عوامی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں تو فوری طور پر ٹرالر مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کریں۔
بصورت دیگر ماہیگیر سڑکوں پر نکلنے اور سخت احتجاج پر مجبور ہوں گے۔
ماہیگیروں نے خبردار کیا ہے کہ سمندر ہمارا ذریعہ معاش ہے، اگر یہ غیر قانونی ٹرالنگ نہ رکی اور ماہیگیروں کو فلاحی سہولتیں اور فشنگ جھال فراہم نہ کیے گئے تو حالات سنگین رخ اختیار کریں گے اور اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور اداروں پر عائد ہوگی۔
بلوچستان فشرمینز کوآپریٹو سوسائٹی کے چیئرمین میر علی اکبر زہری نے کہا ہے کہ مقامی ماہیگیروں کا تحفظ اور ان کے روزگار کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ فشرمینز کوآپریٹو سوسائٹی ہر فورم پر ماہیگیروں کی آواز بن کر ابھرے گی اور کسی کو بھی سمندر کے وسائل پر قبضہ یا غیر قانونی ٹرالنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی، چیئرمین میر علی اکبر زہری نے کہا کہ غیر قانونی ٹرالنگ اور سمندری وسائل کی لوٹ مار ماہیگیروں کے معاش پر کاری ضرب ہے۔
فشریز ڈپارٹمنٹ کے بعض افسران کی چشم پوشی اور مافیاز کی سرگرمیاں ماہیگیروں کو فاقہ کشی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ماہیگیروں کو فشنگ جھال، بنیادی سہولتیں اور فلاحی پروگرام فراہم کیے جائیں تاکہ وہ باعزت طریقے سے اپنے خاندان کا پیٹ پال سکیں۔
*چیئرمین نے کہا ماہیگیروں کا تحفظ اولین ترجیح ہے ہم ماہیگیروں کی آواز بن کر ابھریں گے* ان کا کہ اگر غیر قانونی ٹرالنگ بند نہ کی گئی اور ماہیگیروں کے مسائل حل نہ ہوئے تو احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا اور اس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔