|

وقتِ اشاعت :   September 12 – 2025

کوئٹہ: سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے جمعہ کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عرصے بلوچستان کے بلوچ پشتون اضلاع میں قبائل کی اراضیات کو محکمہ جنگلات کے سپرد کیاجارہا ہے قبائل کی زمین کو الاٹ نہ کیا جائے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ڈاکٹر مالک بلوچ جواب میں کہاکہ جنگلات کی زمینوں کی الاٹمنٹ کے حوالے سے پشتون جرگہ نواب ایاز کی سربراہی میں ملاقات کے لیے آیا تھا بلوچستان کے بلوچ پشتون اضلاع میں قبائل کی اراضیات میں ماضی میں جنگل تھے

لیکن اب وہاں جنگلات ختم ہوگئے ہیں قلعہ عبداللہ میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر کی زمین جنگلات کی تھی جو واپس دینی پڑی۔ انہوں نے کہا کہ ہم زمینوں کے معاملے میں ایک انچ پر بھی ذیادتی نہیں ہونے دیں گے یہ معاملہ ہمارے نوٹس میں ہے اسے مناسب انداز میں حل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں قانون سازی کے معاملات اسمبلی کو حل کرنے چاہئیں عدالتوں کا کام آئین کی تشریح ہے اس سے پہلے کے بعض معاملات پر عدالتی فیصلہ آجائے ہم دعوت دیتے ہیں کہ تمام جماعتیں آئیں اور ہم اتفاق رائے پیدا کریں۔

انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ، مائنز اینڈ منرلز بل سمیت دیگر معاملات پر اتفاق رائے پیدا کریں گے۔

این ایف سی ایوارڈ کے معاملے پر میں تمام سیاسی جماعتوں، وکلاء، اکیڈمیا کو مدعو کیا ہے تاکہ بہتر انداز میں اس معاملے پر تجاویز مرتب کی جاسکیں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اور حکومت ملکر اپنے نمائندے مقرر کریں تاکہ ہم مل بیٹھ کر کمیٹی میں بلوچستان کے معاملات کو حل کریں۔ اس موقع پر اسپیکر نے رولنگ دی کہ حکومت اور اپوزیشن سے نام منگوا کر کمیٹی قائم کی جائیگی،قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ہم اسی ہفتے میں اسپیکر کو کمیٹی ارکان کے نام دیں گے۔