|

وقتِ اشاعت :   September 13 – 2025

کراچی : کراچی پریس کلب کے باہر بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاجی کیمپ مسلسل مزاحمت کا نشان بن چکا ہے اور ہفتہ کو یہ کیمپ اپنے 40ویں دن میں داخل ہوگیا۔

لاپتہ نوجوان زاہد علی بلوچ کے والد عبدالحمید بلوچ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انصاف کے ہر دروازے پر دستک دی۔ عدالت میں مقدمہ دائر ہے، مقامی تھانے میں ایف آئی آر بھی درج ہے،

لیکن ریاستی ادارے اب تک زاہد کی گرفتاری تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا: “اگر میرے بیٹے پر کوئی الزام ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔

خفیہ حراست اور ماورائے آئین حربے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

” عبدالحمید بلوچ نے کہا کہ زاہد بے گناہ ہے اور اپنے پورے گھر کی کفالت کر رہا تھا، مگر ریاستی اداروں نے اسے لاپتہ کر کے خاندان کو تباہی کے دہانے پر دھکیل دیا ہے۔

دریں اثنا انسانی حقوق کے کارکنوں نے انکشاف کیا ہے کہ صرف کراچی کے مختلف علاقوں سے متعدد بلوچ نوجوانوں کو اغوا کر کے غائب کر دیا گیا ہے۔ ان میں ماری پور اور لال بکھر ہاکس بے کے رہائشی نوجوان شیراز بلوچ، سیلان بلوچ، سرفراز بلوچ، رمیز بلوچ، رحیم بخش بلوچ اور رحمان بلوچ شامل ہیں۔

کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ سب محنت کش اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی گمشدگی نے ان کے اہل خانہ کو ناقابلِ برداشت ذہنی اور جسمانی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔

مظاہرین اور انسانی حقوق کے نمائندوں نے ریاستی جبر کو سخت ترین الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگی انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ یہ نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ آئینِ پاکستان کی بھی کھلی توہین ہے۔ آئین ہر شہری کو گرفتاری کی صورت میں عدالت کے سامنے پیش کرنے اور شفاف ٹرائل کا بنیادی حق دیتا ہے، مگر ریاستی ادارے اس حق کو مسلسل روند رہے ہیں۔

مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر جبری گمشدگیوں کا سلسلہ ختم نہ کیا گیا تو یہ مسئلہ محض متاثرہ خاندانوں کا درد نہیں رہے گا بلکہ پورے ملک کو ایک بڑے انسانی المیے میں دھکیل دے گا۔ انہوں نے حکومت اور اداروں سے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر عدالتوں میں پیش کیا جائے اور اس غیرقانونی پالیسی کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے۔