|

وقتِ اشاعت :   September 15 – 2025


دور حاضر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم اظہار رائے، مکالمے، تشہیر کا ذریعہ بنا ہے جہاں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی رائے کا کھل کر اظہار کرتے ہیں جس میں مثبت اور منفی دونوں پہلو موجود ہوتے ہیں۔ اگر اخلاق کے دائرے میں رہ کر کسی سے اختلاف رکھا جائے تو یہ ایک اچھی بات ہے مگر بدقسمتی سے سوشل میڈیا کا غلط استعمال اب بہت زیادہ ہوتا جارہا ہے جس میں نفرت انگیزی، انتشار، شخصیات کی پگڑی اچھالنا شامل ہے ۔
بے بنیاد مواد کا پھیلاؤ زیادہ ہے غلط معلومات شیئر کئے جاتے ہیں جو کہ سماجی اور معاشرتی حوالے سے انتہائی منفی اثرات مرتب کررہا ہے۔
سوشل میڈیا مکالمے کا بہترین فورم ہے اور اپنی رائے کا اظہار سے لیکر مسائل اجاگر کرنے کا بہترین ذریعہ ہے لیکن کسی کی ذات، نجی زندگی کے متعلق غلط معلومات اور پروپیگنڈہ غیر اخلاقی عمل ہے جبکہ غلط معلومات کی تشہیر کرنا غیر مناسب ہے جو اشتعال انگیزی کا سبب بنتا ہے۔؂
پاکستان میں اب یہ مسئلہ زیادہ گمبھیر ہوتا جارہا ہے غلط معلومات کا بہاؤ بڑھتا جارہا ہے ،کردار کشی کھل کر کی جارہی ہے جس کا تدارک ضروری ہے۔
بلوچستان میں سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے گزشتہ دنوں اسمبلی اجلاس کے دوران شدید تشویش کا اظہار کیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کا جن بے قابو ہو رہا ہے لہٰذا اب اس پر بے لگام مواد برداشت نہیں کیا جائے گا۔
صوبائی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سوشل میڈیا پر ’غیر ذمہ دارانہ رویے اور بے بنیاد مواد کے پھیلاؤ‘ پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ہر شخص کی عزت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر جو چاہے وہ لکھ دیا جاتا ہے جس کی میں شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ہر باعزت شخص کی پگڑی اچھالی جا رہی ہے یہ روش ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے ایوان پر زور دیا کہ ہمیں مل کر قانون ساز اسمبلی کے پلیٹ فارم سے اس سنگین مسئلے کا تدارک کرنا ہوگا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے واضح الفاظ میں کہا کہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ اور اشتعال انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ایسا مواد معاشرے میں انتشار کا باعث بنتا ہے اور ہم اس کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے ایک اہم مسئلے کو اجاگر کیا گیا ہے، موجودہ حالات میں یہ سب سے بڑا چیلنج اور مسئلہ ہے سوشل میڈیا کا غلط استعمال بہت زیادہ ہورہا ہے اس کا تدارک بہت ضروری ہے جو بھی غیر مصدقہ معلومات، کردار کشی، انتشار پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں ان کے خلاف قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے اس میں تفریق بھی نہیں ہونی چاہئے قانون سب کیلئے یکساں ہو تاکہ سوشل میڈیا پر منفی رجحان کا تدارک ممکن ہوسکے۔