کوئٹہ: سینئر سیاست دان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے انتظامی، معاشی، معاشرتی، سیاسی بحران اور مسائل مزید گہرے ہوتے جارہے ہیں،
مادر وطن کے وسائل ، سرزمین کے دفاع اور آئندہ نسلوں کی بقاء کی جنگ عوام کو خود لڑنی ہوگی،صوبے کے لوگ ذاتی مفادات کو قومی مفاد کیلئے قربان کرتے ہوئے سیاسی عمل کوآگے بڑھائیں ،یہ بات انہوں نے سراوان ہاوس میں سیاسی کارکنوں و طلباء کے فکری نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہاکہ بلوچستان کے انتظامی، معاشی، معاشرتی اور سیاسی بحران اورمسائل مزید گہرے ہوتے جارہے ہیں ،ایسے میں اپنے مادر وطن کے وسائل ، سرزمین کے دفاع اور آئندہ نسلوں کی بقاء کی جنگ عوام کو خود لڑنی ہوگی، انہوںنے کہاکہ 2013ء کی اسمبلی نے ڈی ایچ اے ایکٹ پاس ، سرماہی دارالحکومت گوادرسے دستبردارہوکرقبضے کو دوام بخشا، 2018ء کی اسمبلی نے ریکو دک کا سودا اور2024ء کی اسمبلی نے مائنزاینڈ منرل ایکٹ پاس کرکے ہمارے قومی وتاریخی وطن کے وسائل اور معدنیات کو نیلا م، سرزمین کاسوداکیا
جس کیخلاف ہم نے سیاسی وشعوری مزاحمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے مائنز اینڈ منرل ایکٹ کو بلوچستان ہائیکوٹ اور ڈی ایچ اے ایکٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے کیونکہ بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مارکیساتھ یہاں کے لوگوں کا پارلیمانی جمہوری حق بھی چھینا گیا ہے ،
صوبے کے معاملات میں اپوزیشن جماعتوں کا کردارکہیں دکھائی نہیں دے رہا حالانکہ اپوزیشن جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کی غلطیوںکی نشاندہی
،کرپشن کاراستہ روکے اور اسمبلی میں عوامی مفادات کے برعکس ہونے والے قانون سازیوں کیخلاف مزاحمت کریںلیکن یہاں ڈی ایچ اے ایکٹ ہو ، ریکو دک کا سودا ہو یا مائنزاینڈ منرلزایکٹ، انسداد دہشتگردی ایکٹ اور لیویز کو پولیس میںضم کرنے جیسے قوانین کی کسی نے مخالفت نہیں کی سب اس پر خاموش ہیں، انہوںنے کہاکہ ہم نے ریکودک کادفاع کرتے ہوئے2010ء سے اس کے دفاع کا جنگ لڑا تاہم 2021ء میںاس وقت اسمبلی میں موجود 65 میں سے 64 اراکین اسمبلی نے خفیہ اجلاس میں ریکودک کا سودا کیا بلوچستان کے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ ریکودک کے معاہدے کو منظر عام پر لایا جائے ۔
انہوںنے کہاکہ میںاسمبلی میںنہیںہوں اس لئے عدالتوںسے رجوع کیا، اگراسمبلی میںہوتاتومائنز منرل ایکٹ ،انسداددہشتگردی ایکٹ اورلیویز کوپولیس میں ضم کرنے جیسے کالے قوانین کے کیخلاف اسمبلی میںبیٹھ کرمزاحمت کرتا، انہوںنے کہاکہ بلوچستان کے لوگ اپنے ذاتی مفادات کوقومی مفاد کیلئے قربان کرتے ہوئے اپنے سیاسی عمل کوآگے بڑھاکر اس سرزمین کے دفاع اور آئندہ نسلوں کی بقاء کی جنگ خود لڑیں