|

وقتِ اشاعت :   September 17 – 2025

سبی: شکار پور سندھ کے پریمی جوڑے نے سبی کورٹ میں لو میرج کر لی ہے، ہماری ملاقات شادی کی ایک تقریب میں ہوئی ہم نے ایک دوسرے کو دل دے بیٹھے،

ہم ایک دوسرے سے بے حد محبت کرتے ہیں، مجھے کسی نے بھی اغواء نہیں کیا ہیہم نے اپنی رضا مندی سے سبی کورٹ میں شرعی طریقے سے شادی کی ہے ہمیں اپنے تین چاچا اور دو بھائیوں سے شدید جان کا خطرہ ہے، شکار پور اور سبی پولیس ہمیں تحفظ فراہم کرئے

ان خیالات کا اظہار گوٹھ شیر محمد ساسولی شکار پور سندھ کے رہائشی صنم بی بی نے اپنے شوہر میر احمد ساسولی کے ہمراہ سبی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

صنم بی بی نے میڈیا کو بتایا کہ 2016 کو میری کزن کے شادی کے تقریب میں میری ملاقات میر احمد ساسولی سے ہوئی ہم نے دیکھتے ہی ایک دوسرے کو دل دے بیٹھے اور ایک دوسرے سے بے حد محبت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میر احمد کی فیملی نے کئی بار ہماری فیملی سے رشتہ مانگا میری والدہ اور والد مرحوم رشتہ دینے کے لئے رضا مند تھے لیکن میرے تین چاچا حاجی انور، سکندر، نذیر اور دو بھائی اس رشتے میں خوش نہیں تھے میرے والد کی وفات کے بعد میرے چچا اکثر مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے تھے

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے پیار کو پانے کے لیے اپنے گھر شکار پور سے بھاگ کر سبی آگئے اور یہاں پر 11گست 2025 کو کورٹ میرج کرلی ہے مجھے کسی نے اغواء نہیں کیا ہے ہم نے اپنی رضا مندی سے شادی کی ہے ہماری شادی کو تقریبا ایک ماہ سے زاہد کا عرصہ ہوگیا ہے صنم بی بی نے بتایا کہ اب مجھے اور میر ے شوہر کو میرے چچا حاجی انور ساسولی،سکندر ساسولی،نزیر ساسولی اور میرے دو بھائی قتل کرنے کی سنگین دھمکیاں دے رہیہیں اور ان سے ہمیں جان کا شدید خطرہ ہے سندھ اور بلوچستان پولیس ہمیں تحفظ فراہم کرنے کے لئے موثر اقدامات کریں۔

اس موقع پر صنم بی بی کے شوہر میر احمد ساسولی نے بتایا کہ ہم 2016سے ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرتے ہیں ہم نے ایک دوسرے کی رضا مندی اور شرعی طریقے سے کورٹ میرج کی ہے شکار پور سندھ میں صنم کے تین چاچا اور دو بھائیوں نے میرے اوپر اغواء کا جائز مقدمہ درج کرایا ہے جو سر اسر من گھرٹ اور بے بنیاد ہے۔سندھ پولیس ہمیں تحفظ فراہم کرئے۔