بلوچستان اور ملک کے معاشی مستقبل گوادر میں بنیادی سہولیات کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے حکومت بلوچستان کی جانب سے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جارہے ہیں خاص کر گوادر میں پانی کا مسئلہ بہت دیرینہ ہے جہاں قلت آب کی وجہ سے لوگ شدید پریشان ہیں اورٹینکرز سے مہنگی قیمت پر پانی خرید کر اپنی ضروریات پوری کرنے پر مجبور ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے گوادر کے مکینوں کو صاف پانی کی فراہمی کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ,وہ خود اس معاملے کی نگرانی کررہے ہیں تاکہ گوادر میں پانی کا دیرینہ مسئلہ حل ہو سکے جبکہ بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے بھی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔
گزشتہ روز وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت گوادر میں پانی اور بجلی کے مسائل کے حل سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں گوادر کو مستقل بنیادوں پر پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے ہدایت دی کہ میرانی ڈیم سے پائپ لائن کے ذریعے گوادر کو پانی کی سپلائی سے متعلق فیزیبلٹی رپورٹ فوری طور پر تیار کی جائے، تاکہ یہ منصوبہ وفاقی اور صوبائی حکومت کی شراکت سے مکمل کیا جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے جی ڈی اے کو ہدایت دی کہ نئے پائپ لائن سے گھریلو کنکشنز کی فراہمی کے عمل کو تیز کرتے ہوئے فوری طور پر مکمل کیا جائے جبکہ شادی کور سے پانی کی باقاعدہ سپلائی شروع کرنے اور واٹر ڈیسلینیشن پلانٹ کو مزید فعال بنانے کی بھی ہدایات جاری کی گئیں۔
اسی طرح پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کو سنٹسر میں بورنگ سسٹم جلد فعال کرتے ہوئے پانی کی فراہمی شروع کرنے کی ہدایت دی گئی۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ نے چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نورالحق بلوچ کو گوادر میں پانی اور بجلی کے مسائل کے حل کے لیے نمائندہ مقرر کیا جو تمام متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ اور کوآرڈینیشن کی ذمہ داری انجام دیں گے۔
گوادر بلوچستان کا اہم ترین علاقہ ہے یہاں سی پیک سمیت دیگر میگا منصوبے جاری ہیں جن سے ملکی معیشت میں انقلاب برپا ہوگا ۔
گوادر کے اہم منصوبوں کے فوائد کا حق سب سے پہلے گوادر کے باشندوں کا ہے انہیںپانی، بجلی، انفراسٹرکچر سمیت معاشی مواقع ملنے چاہئیں تاکہ گوادر کے عوام اپنے وسائل سے مستفید ہو ں،خوشحال ہوں، مسائل سے نجات پائیں۔
امید ہے کہ گوادر کو مثالی ضلع بنانے کے لیے وہاں کی ترقی و خوشحالی کویقینی بنایا جائے گا۔ بلوچستان اور ملک کی ترقی گوادر سے جڑی ہوئی ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومت کی جانب سے گوادر سمیت بلوچستان کے تمام اضلاع کو خوشحالی کی جانب گامزن کرنے کیلئے کوئی کسر نہ چھوڑی جائے تاکہ محرومی و پسماندگی کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔