|

وقتِ اشاعت :   September 21 – 2025

واشنگٹن: امریکہ نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے دفاعی اور خفیہ اداروں کے بجٹ کو پارلیمانی یا شہری عوامی نگرانی کے تحت لائے، تاکہ مالیاتی شفافیت اور احتساب کو بہتر بنایا جا سکے۔

یہ سفارش امریکی محکمۂ خارجہ کی “فِسکل ٹرانسپیرنسی رپورٹ 2025” میں کی گئی ہے جو جمعہ کو جاری کی گئی۔ یہ سالانہ رپورٹ دنیا بھر کے بجٹ طریقۂ کار کا جائزہ لیتی ہے اور دیکھتی ہے کہ حکومتیں عوامی فنڈز کو کس حد تک شفاف انداز میں شائع، آڈٹ اور منظم کرتی ہیں۔

رپورٹ میں پاکستان کے حصے میں کہا گیا کہ ’’فوج اور خفیہ اداروں کے بجٹ پر مناسب پارلیمانی یا عوامی نگرانی موجود نہیں تھی۔‘‘ رپورٹ کے مطابق پاکستان شفافیت بڑھانے کے لیے ایسے اقدامات کر سکتا ہے جیسے کہ ’’فوجی اور خفیہ اداروں کے بجٹ کو پارلیمانی یا شہری عوامی نگرانی کے تحت لانا۔‘‘

رپورٹ نے یہ بھی زور دیا کہ حکومت بجٹ تجاویز کو بروقت شائع کرے۔ اس میں کہا گیا: ’’حکومت نے اپنی ایگزیکٹو بجٹ تجویز مناسب وقت میں شائع نہیں کی۔‘‘ رپورٹ نے تجویز دی کہ یہ دستاویز پہلے جاری کی جائے تاکہ اس پر بامعنی بحث اور جانچ ممکن ہو سکے۔

قرضوں کی تفصیلات پر رپورٹ نے نشاندہی کی کہ ’’حکومت نے قرضوں کے واجبات، بالخصوص سرکاری اداروں کے بڑے قرضوں کے بارے میں محدود معلومات عوام کو فراہم کیں۔‘‘ سفارش کی گئی کہ ’’حکومت اپنے قرضوں کی مکمل تفصیلات، بشمول سرکاری اداروں کے قرضے، عوام کے سامنے ظاہر کرے۔‘‘

ان خامیوں کے باوجود رپورٹ نے کچھ شعبوں میں پاکستان کی پیش رفت کو سراہا۔ اس میں کہا گیا کہ پاکستان کا منظور شدہ بجٹ اور سالانہ اختتامی رپورٹ ’’عوام کے لیے وسیع پیمانے پر اور آسانی سے دستیاب تھی، بشمول آن لائن‘‘ اور یہ کہ بجٹ معلومات ’’عمومی طور پر قابلِ اعتماد اور سپریم آڈٹ ادارے کے آڈٹ کے تحت تھیں۔‘‘

رپورٹ میں پاکستان کے سپریم آڈٹ ادارے کی آزادی کو بھی سراہا گیا، جس نے ’’بین الاقوامی معیار کے مطابق اپنی آزادی برقرار رکھی‘‘ اور معقول وقت میں اپنی آڈٹ رپورٹیں شائع کیں۔

مزید کہا گیا کہ پاکستان نے قانون یا ضابطے میں قدرتی وسائل کے معاہدے اور لائسنس دینے کے طریقۂ کار کو واضح کیا اور ’’ان پر عملدرآمد بھی کیا‘‘ جبکہ ان معاہدوں کی بنیادی معلومات بھی عوامی سطح پر فراہم کیں۔

رواں سال کی رپورٹ نے وہی خدشات دہرائے ہیں جو پچھلی رپورٹس میں بارہا سامنے لائے گئے تھے، خاص طور پر قرضوں کی شفافیت اور دفاعی اخراجات پر قانون ساز نگرانی کے فقدان سے متعلق۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان شدید مالی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ حکومت نے مالی سال 2025-26 کا 17.57 کھرب روپے کا بجٹ پیش کیا ہے، جس میں سے 9.7 کھرب روپے قرضوں کی ادائیگی کے لیے اور 2.55 کھرب روپے دفاع کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد زیادہ ہے۔

امریکی سفارشات کا مقصد پاکستان کے مالیاتی نظام پر عوامی اعتماد اور عالمی برادری کے اعتماد کو مضبوط بنانا ہے، ایسے وقت میں جب بیرونی سرمایہ کاری اور فنانسنگ ملک کی معاشی استحکام کے لیے نہایت اہم ہیں۔

“فِسکل ٹرانسپیرنسی رپورٹ 2025” ایک عالمی جائزہ ہے جو 140 حکومتوں اور اداروں کے مالیاتی طریقۂ کار کا مطالعہ کرتی ہے۔ یہ دیکھتی ہے کہ آیا ممالک بروقت بجٹ تجویز شائع کرتے ہیں، قرضوں کی تفصیلات ظاہر کرتے ہیں (بشمول سرکاری ادارے)، آزاد آڈٹ ادارے رکھتے ہیں، اور حساس اخراجات جیسے دفاع و خفیہ ادارے کے فنڈز پر پارلیمانی یا شہری نگرانی قائم کرتے ہیں۔