کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ریکو ڈیک منصوبے کے حتمی معاہدات اور مالی ذمہ داریوں کی منظوری دیتے ہوئے منصوبے کی مجموعی لاگت میں 14 فیصد اضافے کے بعد پہلے مرحلے فیز ون کے لیے 7.723 بلین امریکی ڈالر کی منظوری دی جبکہ پہلے تخمینہ 6.765 بلین ڈالر تھا۔
ای سی سی کے اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے خزانہ اور ریونیو محمد اورنگزیب نے کی۔
اجلاس میں پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی سمری پر غور کیا گیا، جس میں ریکو ڈیک منصوبے کی مالی اعانت اور حتمی معاہدات کی منظوری کے لیے سفارشات شامل تھیں۔
اجلاس میں ای سی سی نے معاہدات کے مجوزہ حتمی شرائط کی منظوری دی اور ہدایت کی کہ اگر حتمی نفاذ کے دوران قانونی یا مالی مشیروں کی طرف سے کوئی اہم تبدیلی سامنے آئے تو اسے دوبارہ ای سی سی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
مارچ 2025 میں ای سی سی کے فیصلے کے مطابق منصوبے کے تمام فریقین مختلف اقدامات مکمل کرنے اور معاہدات کی شرائط کو حتمی شکل دینے میں مصروف تھے۔
ابتدائی سمری میں ای سی سی کو پہلے مرحلے کے مجموعی منصوبہ لاگت کا تخمینہ 6.765 بلین ڈالر بتایا گیا تھا جس میں کیپیکس 5.566 بلین ڈالر اور قرض اور تعمیراتی مہنگائی کے لیے1.199بلین ڈالر شامل تھے۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ منصوبے کی مالی اعانت کے لیے متعلقہ قرض دہندگان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور طویل مدتی معاہدات کے تحت مشترکہ شرائط طے کی جا رہی ہیں جو حتمی معاہدات کی بنیاد بنیں گی۔ ای سی سی نے مختلف فریقین کے لیے مالی ذمہ داریوں کو بھی منظور کیا جن میں سرکاری ادارے (ایس او ایز) پاکستان منرلز پرائیویٹ لمیٹڈ (پی ایم پی ایل) اور بلوچستان منرل ریسورسز لمیٹڈ (بی ایم آر ایل) شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ای سی سی نے سرمایہ کار فریقین کو اپنے حصص کے مطابق فنڈز کی واپسی کے لیے ہدایات جاری کرنے کی اجازت دی جو مقامی کرنسی یا غیر ملکی زر مبادلہ میں ہو سکتی ہیں۔
پروجیکٹ کی مالی اعانت میں اضافے کی وجہ سے آر ڈی ایم سی کو قرض کی رقم 3.5 بلین ڈالر تک بڑھانے کا منصوبہ ہے، جو پہلے 3 بلین ڈالر تھی جس سے پہلے مرحلے کی مجموعی لاگت 7.723 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
اس اضافے کی وجہ زیادہ قرض کی فنانسنگ، تعمیراتی مدت میں چھ ماہ کے اضافے اور منصوبے کے دوران اضافی آپریٹنگ لاگت شامل ہے۔
منصوبے سے تقریباً 35 فیصد رقم پاکستانی روپے میں خرچ کی جائے گی۔
پی ایم پی ایل اور بی ایم آر ایل کی شراکتی ذمہ داریاں بالترتیب 2.145 بلین ڈالر اور 1.287بلین ڈالر سے کم ہو کر قرض کے بعد 1.173 بلین ڈالر اور 704 ملین ڈالر رہ جائیں گی۔
اجلاس میں وزارت ریلوے کی جانب سے پیش کردہ ریل ڈویلپمنٹ معاہدے اور برج فنانسنگ معاہدے کی منظوری بھی دی گئی جس کے تحت ریکو ڈیک کان کنی کمپنی کو 390 ملین ڈالر فراہم کیے جائیں گے تاکہ بلوچستان میں کانوں سے برآمدی مال کی نقل و حمل کے لیے 1,350 کلومیٹر طویل ریلوے لائن بچھائی جا سکے۔
ای سی سی نے وزارت ریلوے کو ہدایت دی کہ دونوں معاہدات کی دستاویزات وزارت خزانہ کے ساتھ شیئر کریں اور اگلے سال مارچ تک منصوبے کی عمل درآمد اور نفاذ پر رپورٹ پیش کریں۔
ای سی سی کے چیئرمین نے کہا کہ اس منظوری سے حکومت کی اس عزم کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ اس تاریخی منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے جس سے بلوچستان کے اقتصادی منظرنامے میں تبدیلی آئے گی اور پاکستانی عوام کے لیے وسیع فوائد پیدا ہوں گے۔
ریکو ڈیک منصوبہ نہ صرف دنیا کے سب سے بڑے غیر ترقی یافتہ تانبا سونے کے ذخائر کو کھولے گا بلکہ روزگار کے مواقع، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور طویل مدتی سماجی و اقتصادی بہتری کے لیے بھی محرک ثابت ہوگا۔ ریکوڈک منصوبہ سے بلوچستان میں ترقی و خوشحالی آئے گی جس کا براہ راست فائدہ عوام کو پہنچے گا ،بلوچستان دیگر صوبوں کی طرح ترقی کی دوڑ میں شامل ہوگا جس سے انفراسٹرکچر سمیت بہترین بنیادی سہولیات عوام کو میسر آئینگی ۔
ریکوڈک منصوبہ ملک اور بلوچستان کیلئے معاشی گیم چینجر ثابت ہوگا۔