|

وقتِ اشاعت :   September 23 – 2025

کوئٹہ :  وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مائنز اینڈ منرل ایکٹ سے متعلق مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور یہ پیش رفت صوبے میں جمہوری روایات اور عوامی مفادات کو مقدم رکھنے کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مائنز اینڈ منرل ایکٹ پر کافی عرصے سے بات چیت جاری تھی اس کے منظور ہونے کے بعد مختلف اعتراضات سامنے آئے تھے تاہم ہم نے واضح کیا تھا کہ اپوزیشن سمیت تمام جماعتوں کو اعتماد میں لے کر فیصلہ کریں گے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر اور کمیٹی کے اراکین حکومت سے ملاقات کے لیے آئے جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ مائنز اینڈ منرل ایکٹ کو دوبارہ صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے بعد اپوزیشن اراکین اور صوبائی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر لیڈر آف اپوزیشن میر یونس عزیز زہری، اراکین صوبائی اسمبلی خیر جان بلوچ، اصغر ترین، میر جہانزیب خان مینگل ، رحمت صالح بلوچ، مولانا ہدایت الرحمن، زمرک خان اچکزئی، صوبائی وزرا میر محمد صادق عمرانی، میر سلیم خان کھوسہ، بخت محمد کاکڑ، مشیر مینا مجید بلوچ، میر برکت رند، حاجی علی مدد جتک، بھی موجود تھے وزیر اعلی نے کہا کہ ایوان کے اندر اور باہر موجود تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر ایکٹ کو دوبارہ اسمبلی میں لایا جائے گا تاکہ کسی کو کوئی تحفظات باقی نہ رہیں

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے مائنز اینڈ منرل ایکٹ پر عمل درآمد آج سے روک دیا گیا ہے اور اب یہ ایکٹ قرارداد کی صورت میں دوبارہ ایوان میں لایا جائے گا

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے جس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے اراکین شامل ہوں گے تاکہ ترامیم اور فیصلے مشترکہ اتفاق رائے سے کیے جا سکیں وزیر اعلی بلوچستان نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد مائنز اینڈ منرل ایکٹ پہلے ہی قانون کی شکل اختیار کر چکا ہے اس لیے اب صرف اس میں ترامیم کی جا سکتی ہیں

انہوں نے کہا کہ عوامی حقوق سے متعلق کسی بھی قانون سازی پر حکومت سب کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہے تاکہ فیصلے شفاف، جمہوری اور عوام دوست ہوں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے معدنی وسائل صوبے کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کے بہتر استعمال کے لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی قوتیں مل کر کام کریں وزیر اعلی نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ معدنی وسائل کے ذریعے صوبے کی معیشت کو ترقی دی جائے تاکہ ان کے ثمرات براہ راست عوام تک پہنچیں۔