ملک میں موجودہ حکومت معاشی استحکام، عالمی سطح پر اہم ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کو مضبوط کرنے میں کامیاب ہورہی ہے۔
امریکہ، چین سمیت دیگر بڑے ممالک کے ساتھ خاص کر تجارت کو وسعت دے رہی ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیں، آئی ٹی، معدنیات، توانائی سمیت دیگر شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کی جارہی ہے جس سے مستقبل میں معیشت مزید مضبوط ہوگی۔
یہ حکمت عملی اپنائی جارہی ہے کہ قرض کی بجائے تجارت کے ذریعے ملکی معاشی پہیہ کو چلایا جائے تاکہ قومی خزانے اور عوام پر ٹیکسز کا بوجھ نہ بڑھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک کی معیشت مستحکم ہورہی ہے، ترقی کا وقت آچکا ہے ، پاکستان خارجی، معاشی اور عسکری میدان میں آگے بڑھ رہا ہے۔
لندن میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے گفتگو میں شہباز شریف کا کہنا تھاکہ آپ عظیم پاکستانی ہیں، ملک کی بھرپور خدمت کررہے ہیں، دوتین سال پہلے معیشت ہچکولے کھارہی تھی۔
کرکٹ کی مثال دیتے ہوئے وزیراعظم کا کہناتھاکہ اکیلا کپتان دس کھلاڑیوں کی محنت کے بغیر کچھ نہیں کرسکتا، ٹیم ورک سے ہی کامیابی ملتی ہے۔
پاکستان سفارتی، معاشی اور عسکری میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، ہم نے جنگ جیتی، دشمن کو شکست فاش دی، کشمیر کا مقدمہ اقوام متحدہ میں لڑ کر آیا ہوں، اقوام متحدہ کے اجلاس میں پاکستان کا مقدمہ بہترین انداز میں پیش کیا۔
پاکستان امریکا کے تعلقات میں بہتری آئی ہے، امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات اچھی رہی، پاک امریکا تعلقات مزید آگے بڑھیں گے۔
بہرحال ملکی معیشت کو بہتر بنانے کیلئے مستقل پالیسی کی ضرورت ہے جس کے لیے سنجیدگی کے ساتھ اقدامات اٹھانے ہونگے علاقائی اور عالمی ممالک کے ساتھ سفارتکاری کے ذریعے تجارتی سرگرمیوں میں تیزی لانے کیلئے بہترین ٹیم ورک کے ذریعے کام کرنا ہوگا جس میں حکومت ،اتحادی سمیت اپوزیشن جماعتوں کو بھی ساتھ لیکر چلنا ہوگا تاکہ حکومتی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہے۔
معاشی پالیسی میں ہر نئی حکومت چھیڑ چھاڑ کرتی ہے جبکہ دوست ممالک کے ساتھ تعلقات خراب کئے جاتے ہیں جس کے اثرات ملکی معیشت پر انتہائی منفی پڑتے ہیں لہذا قومی معاشی پالیسی پر سب کو ایک پیج پر ہوکر سنجیدگی کے ساتھ چلنا چاہئے تاکہ پاکستان معاشی بحران سے مکمل نجات حاصل کرسکے۔
ملکی معاشی ترقی کیلئے مستقل پالیسی وقت کی اہم ضرورت!
![]()
وقتِ اشاعت : September 30 – 2025