گزشتہ دنوں پنجاب کی وزیراعلٰی مریم نواز نے اپنی حکومت کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کی تنقید کا سخت جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ میرا پانی، میرا صوبہ اور میرے وسائل ہیں، آپ کو اس سے کیا مسئلہ ہے۔ فیصل آباد میں ای بس پراجیکٹ کے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’مجھے تر نوالہ نہ سمجھیں اور پنجاب پر بات کرنے کے بجائے خود بھی عوام کی خدمت کرنے کی کوشش کریں۔
بہرحال مریم نواز ملک کے بڑے صوبے پنجاب کی وزیراعلیٰ ہیں اور ان کی جماعت کی مرکز میں مخلوط حکومت ہے ،پیپلز پارٹی کی حمایت مرکز میں ن لیگ کو حاصل ہے۔
پنجاب اور سندھ حکومت کے درمیان ایک دوسرے پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے مگر صوبوں کے درمیان یہ کشیدگی موجودہ حالات میں ملک کیلئے بہتر نہیں بلکہ سب کو ملکر ملکی ترقی کیلئے سوچنا چاہئے۔
پنجاب کے پانی پر پنجاب کا بالکل حق ہے اسی طرح دیگر صوبوں کے وسائل پر بھی انہی کا حق ہے مگر افسوس یہ مسئلہ ہر وقت تنازعے کا باعث رہا ہے خاص کر اگر بلوچستان کی بات کی جائے تو بلوچستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز کا ہر وقت یہی مطالبہ رہا ہے کہ بلوچستان کے وسائل پر اس کا حق تسلیم کیا جائے،اس صوبے کی گیس سمیت دیگر وسائل سے سب سے زیادہ محاصل وفاق کو ملتا ہے جبکہ بلوچستان کو اس کے حصے کا حق بھینہیں ملتاجس کی وجہ سے صوبے میں ترقی کی رفتار سست ہے، وفاقی بجٹ سے لیکر این ایف سی ایوارڈ تک میں رقم دیگر صوبوں سے کم ملتی ہے۔
بلوچستان سے جب ’’ہمارے وسائل پر ہمارا حق‘‘ کی صدا بلند ہوتی ہے تو اسے متعصبانہ رویہ سے تعبیر کی جاتی ہے یہ المیہ ہے بلوچستان کی ہر حکومت کی یہی کوشش رہی ہے کہ وسائل سمیت بجٹ، این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کو زیادہ اہمیت دی جائے تاکہ بلوچستان کی پسماندگی و محرومیوں کا خاتمہ ممکن ہوسکیلیکنآج تک بلوچستان کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں مگر بلوچستان حکومت کی جانب سے کسی کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔
موجودہ حالات میں صوبوں کے درمیان یک جہتی اور مضبوط روابط اشد ضروری ہیں تاکہ وفاقی حکومت مستحکم رہے۔
صوبوں کے درمیان کشیدگی مسائل کا سبب بنے گی جس سے صوبائیت کی سوچ کو تقویت ملے گی جو کسی کے مفاد میں نہیں لہذا تمام صوبوں کو اپنے وسائل پر جائز حق دیا جائے ،کسی کے حقوق غضب نہیں ہونے چاہئیں۔
صوبوں کو اپنے وسائل پر حق مضبوط وفاق کی علامت
![]()
وقتِ اشاعت : October 6 – 2025