|

وقتِ اشاعت :   October 11 – 2025

کوئٹہ: پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے پشتونخوامیپ جنوبی پشتونخوا کے صوبائی کمیٹی کے دو روزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں تمام اقوام اپنے حقوق اور سرزمین کی آزاد ی کے لیے استعماری قوتوں سے نبردآزما ہیں ۔

 

جن اقوام نے ہر وقت اپنے مسائل کی روک تھام کے لیے اقدامات نہ اُٹھا کر سُستیاں کیں آج وہ انتہائی خطرناک حالت سے دوچار ہیں ، فلسطینی عوام نے اسرائیلی منصوبوں کا ادراک نہ کرکے تاریخی غلطی کی آج اُنہیں مظالم بھگتنے پڑرہے ہیں ہمیں بھی ہر وقت اپنے وطن کی دفاع سرزمین کے تحفظ اپنے قدرتی وسائل کو نیلام ہونے سے بچانے کے لیے متحد ہوکر جدوجہد کرنی چاہیے ۔ منظم سیاسی تنظیم ہمیں بچا سکتی ہے ورنہ سب کچھ ہاتھ سے نکل جائیگا۔ہم اپنے اُن شہدا کی جدوجہد وقربانیوں کو ناقابل فراموش نہیں کرسکتے جنہوں نے اس تاریخی جدوجہد میں اپنے سروں کا نذرانہ پیش کیا۔

 

پشتونخوامیپ کو حق اور مظلوم کا ساتھی اور جبر وظالم کے خلاف اپنی آواز بلند کرنی ہوگی ۔ پشتونخوامیپ کا کارکن اپنے علاقے میں سب سے نمایاں ہوگا وہ باکردار ، با عمل ، پرہیزگار اور بااعتماد ہوگا ۔ آج عوام پارٹی میں شامل ہورہے ہیں کیونکہ وہ اس پارٹی پر اعتماد کرتے ہیں انہیں ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو ان کی حقیقی ترجمانی کرے ۔ سیاست کو عبادت کی طرح کرنی ہوگی سیاست آسان کام نہیں ،ایک معمولی غلطی آپ کی جدوجہد تحریک کو بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے ،ہمیں احتیاط کرنی ہوگی ،ہمیں اُن لوگوں کی فہرست بنانی ہوگی جنہوں نے ہر مرحلے میں اس قومی تحریک کا اپنی بساط کے مطابق ساتھ دیا تعاون کیا۔

 

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سیاسی واک واختیارسے محرومی سے عاری اقوام وعوام کا یہی حال ہوتا ہے جو آج پشتونوں کا ہے ۔ پشتون اس ملک میں ہر ادارے میںبحیثیت سیال وبرابر قوم اپنا حصہ چاہتے ہیں اور یہ ان کا حق ہے۔ ملک میں متصل پشتون علاقوں پر متحدہ قومی صوبہ پشتونوں کا حق ہے اور یہ ضرور بن کر رہیگا۔ ہمیں اپنا موقف ہر کسی کے سامنے انتہائی شائستگی سے رکھنا ہوگا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے ، پشتون ، بلوچ ، سندھی ،سرائیکی اور پنجابی اقوام وعوام اس میں آباد ہیں جب یہ تمام قومیں سیال /برابر ہوں گی تب یہ زندہ آباد ہوگا۔

 

محمد علی جناح نے جب پاکستان کی بات کی تو مشرقی پاکستان نے اس میں زیادہ ہمت دکھائی اور یہ بنگال کے ساتھ پیرٹی کا قانون بنایا گیا لیکن بدقسمتی سے آئین بننے نہیں دیا گیا۔ اسی لورالائی شہر میں سیفٹی ایکٹ کے تحت خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کو جیل میں رکھا گیا تھا۔ پہلی مارشل لاء لگائی گئی اور یہ ملک دولخت ہوا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکمرانی اچھی نہ تھی لیکن انہوں نے ایک کمال کیا کہ اس ملک کوپہلی بار متفقہ آئین دیا ۔ یہ فیصلہ ہوا تھا کہ جو ووٹ جیتے گا حکومت اُس کی ہوگی ۔ پھر کئی وقت گزرنے کے بعد اٹھارویں آئینی ترمیم لائی گئی ۔

 

لیکن آج ووٹ کو عزت دو اور جمہوریت کا ہماری سیاست کا نعرہ لگانے والی پارٹیاں اسی آئین کو پائمال کررہی ہے ۔ 8فروری کے انتخابات میں عمران خان نے الیکشن میں کامیابی حاصل کی لیکن رات 9بجے کے بعد زروزور کی بنیاد پر عوام کو دہشت زدہ کرتے ہوئے شہباز شریف کی حکومت کومسلط کیا گیا ۔ 144نافذ کرکے سیاسی جمہوری کارکنوں کو مارنے ، گرفتار کرنے، جیلوں میں ڈالنے ،ان کی عزتوں کو نقصان پہنچانے سے بھی گریز نہیں کیا گیا ایسا تو کوئی دشمن کے بچوں کے ساتھ بھی نہیں کرتا جو یہ ناجائز حکومت اپنے ملک بچوں کے ساتھ کررہی ہے ۔

 

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آئین میں آئین کو پائو تلے روندھنے ، اس پائمال ، معطل کرنے والی کی سزا واضح ہے آئین کے ساتھ جو بھی کہلواڑ کریگا اسے آئین کے تحت سزا ہونی چاہیے ۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ افغان کڈوال عوام کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک جاری ہے یہ انتہائی افسوسناک ہے، تقریباً 6لاکھ افراد پاکستان ، جرمنی ، کینڈا ودیگر ملکوں کی دوہری شہریت رکھتے ہیں لیکن یہاں افغان عوام کی جبری زور زبردستی بیدخلی ، گرفتاریاں ، عزتوں کو نقصان پہنچانے ، کاروبار ، جائیدادیں ضبط کرنے کے ناروا اقدامات افغان عوام کیسے بھول سکتے ہیںیہ تو نفرتوں ، کداوتوں کو جنم دیگی۔

 

ماضی میں صدر اسحاق کی جانب سے افغانستان کے لئے فنڈز رکھنا اور اسے پانچواں صوبہ بنانے کی باتیں آج بھی دوہرائی جارہی ہے یہ باتیں احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی سربراہی میں سیکورٹی کونسل کے اراکین ممالک کی موجودگی میں افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک کا اجلاس بُلایا جائے جس میں افغانستان کے اپنے ہمسایہ ممالک اور ہمسایہ ممالک کے افغانستان کے ساتھ تحفظات ، خدشات پیش ہو اور نتیجے میں ایک ایسا معاہدہ تشکیل پائے کہ سارے ممالک ایک دوسرے کی استقلال ، آزادی وخودمختاری کے احترام اوراندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے پابند ہوں اور اس معاہدے کی ضامن اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے تمام رکن ممالک ہوں ۔