|

وقتِ اشاعت :   October 11 – 2025

کوئٹہ:سینئر سیاستدان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ ہماری سرزمین اس وقت بحرانوں کا شکار ہے جن سے نکلنے کے لئے نوجوانوں، سیاسی کارکنوں، خواتین، پڑھے لکھے طبقے کو متحد ہوکر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،بلوچستان کے معدنی وسائل ہماری آنے والی نسلوں کی امانت ہیں جنہیں کسی کو لوٹنے کی اجازت نہیں دیں گے،ریکوڈک، سیندک اور سوئی جیسے معدنی قدرتی وسائل کو لوٹا گیا ہے اور ہمارے لوگ آج بھی بے روزگاری و غربت اور زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں

 

مائنز اینڈ منرل ایکٹ کا ازسرنو جائزہ لے کربلوچستان کے وسائل کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،پسنی امریکہ کو دیئے جانے کی خبروں کی صوبائی اسمبلی میں وضاحت ہونی چاہیے۔یہ بات انہوں نے جمعہ کو کوئٹہ پریس کلب میں پر ہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا کہ ہمارئے وسائل لوٹنے کے لئے مختلف ادوار میں مختلف مسائل ایجاد اور بیانیے بناکر لوگوں کی توجہ ہٹائی گئی اور صوبے میں بے روزگاری، غربت، ناخواندگی میں اضافہ کیا جاتا رہا ہے جس کی وجہ سے بدنظمی پھیل رہی ہے، 1954ء میں ڈیرہ بگٹی سے نکلنے والی گیس سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوا، گوادر کے لئے گیم چینجر کی اصطلاح ایجاد کی گئی اس سے بھی صوبے کو کچھ نہیں ملا،انٹرنیشنل اخباروں میں پسنی پورٹ امریکہ کو دیئے جانے کی باتیں کی جارہی ہیں حکومت اس کی وضاحت کرئے، اگر بات درست ہے تواس پر اسمبلی میں بات کی جائے تاکہ لوگوں کو حقائق سے آگاہی ہو کیونکہ اس سے قبل ریکوڈک اور سیندک کا سودا ہونے کے باوجود ہمارے نوجوان آج بھی بے روزگار ہیں،ہمارے تعلیم یافتہ نوجوان آج بھی ان قدرتی، معدنی وسائل سے مستفید نہیں ہورہے اور نہ ہی انہیں کوئی فائدہ پہنچ رہا ہے،انہوں نے کہا کہ گرین بیلٹ انشیٹو کے نام پر باہر سے لاکر لوگوں کو بسانے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے

 

اگر یہ منصوبہ مکمل ہوتا ہے تو ہمارے لوگ اقلیت میں بدل جائیں گے ہمیں کوہ سلیمان سے جیونی اور ڈیرہ اللہ یار سے تفتان تک اجتماعی معاملات کے لئے متحد ہوکر ان بحرانوں سے اپنے لوگوں اور سرزمین کو نکالنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ان بحرانوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے اجتماعی نظم کی ضرورت ہے،ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں طلباء￿ ، نوجوانوں، خواتین اور پڑھے لکھے طبقے ہم مل کر صورتحال کا مقابلہ کرنا ہوگا تاکہ سالہا سال سے جاری وسائل کی لوٹ مار کا راستہ روکا جاسکے قبائل جن کی آبائی زمینوں پر قبضہ کیا جارہا ہے اس کا تدارک ہوسکے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ صوبے میں حقیقی نمائندوں کی بجائے فیصلہ کرنے والے ایسے لوگوں کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں لاتے ہیں جو کرپٹ ہوں الیکشن کمیشن پر بڑئے سوالیہ نشان ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اور سیاسی جماعتوں کے دباؤ کے بعد حکومت نے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اس لئے میں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے اس ایکٹ کو واپس لینے کے آرڈر کی کاپی حاصل کرنے کے لئے عدالت سے رجوع کیا ہے، یہ ایکٹ دوبارہ اسمبلی تک پہنچا ہے حزب اختلاف کی پارلیمان میں اور پارلیمان سے باہر جماعتیں اس کا ازسرنو قانون سازی کا جائزہ لیکر بہتر قانون سازی کریں اسمبلی میں موجود ساتھیوں کو بہتر پالیسی بنانے کا موقع ملا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ موٹر ویز، پی ٹی وی، ریڈیو سمیت تمام اداروں کو گروہی رکھ دیا گیا ہے ریکوڈک، سیندک کا سودا کردیا گیا اب پسنی کا بھی سودا کیا جارہا ہے۔

 

نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بالادست طبقہ بحران پیدا کرنے کا ماہر ہے اس لئے اب وہ سرزمین کو تقسیم کرنے کی کوشش کررہا ہے بلوچستان 2 قوموں کا صوبہ ہے اور ہم صوبے کی تقسیم کسی صورت تسلیم نہیں کرتے۔دریں اثناء سینیئر سیاستدان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پر عمل درآمد روکے جانے سے متعلق وزیراعلیٰ بلوچستان کے ایگزیکٹو آرڈر کو ااپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں اس کو ریکارڈ پر لایا جائے۔یہ بات انہوں نے جمعہ کو بلوچستان ہائیکورٹ کے احاطے میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025ء بلوچستان اسمبلی سے 12 مارچ کو منظور ہوا ، اس ایکٹ پر بلوچستان کی اپوزیشن جماعتوں کو اعتراضات تھے کہ یہ ایکٹ آئین سے متصادم ہے اور اس کے ذریعے بلوچستان کے حقوق غصب کئے گئے ہیں ، عوامی ردعمل کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان نے ایکٹ پر عملدرآمد کو ایگزیکٹو آڈر کے تحت روکنے کا اعلان کیا ، اس ضمن میں حکومت نے کوئی ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا ہوگا تاہم اس صوبے کے لوگوں ، صوبائی حکومت اور ملکی نظام میں عدم اعتماد کی فضا ہے جس کے نتیجے میں میں نے بلوچستان ہائیکورٹ سے دوبارہ رجوع کیا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے جو ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا ہے اس کو عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ ایگزیکٹو آرڈر اس صوبے کے لوگوں کے سامنے آئے اور معلوم ہو کہ حکومت نے کیا فیصلہ کیا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ میں نے بلوچستان ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ ایگزیکٹوآرڈر کو تحریری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میں پہلا شخص ہوں جس نے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا تھا اور درخواست دائر کی تھی کیوں کہ میں اسمبلی میں نہیں ، مجھے میرئے نکتہ نظر اور سیاسی آواز کے نتیجے میں اسمبلی سے باہر رکھا جاتا ہے 2018ء کے انتخابات میں میرے حلقے میں ہونے والی دھاندلی کا کیس آج بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے ایگزیکٹو آرڈر کو اپنے آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں لہذا اس کو ریکارڈ پر لایا جائے۔