|

وقتِ اشاعت :   October 11 – 2025

کوئٹہ: امیر جمعیت علماء اسلام بلوچستان، سینیٹر مولانا عبدالواسع نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ نااہل حکومت کی ناقص پالیسیوں کے نتیجے میں صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال، معاشی ابتری اور انتظامی بدحالی نے سنگین شکل اختیار کر لی ہے۔ ان پالیسیوں کی قیمت آج سیکورٹی اہلکار، عام شہری اور صوبے کی ترقی یکساں طور پر ادا کر رہے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت صوبائی امور چلانے کی اہلیت اور وڑن سے محروم ہے۔ اس کے پاس نہ کوئی مؤثر پالیسی ہے اور نہ ہی کوئی جامع حکمتِ عملی جو صوبے کو موجودہ بحرانوں سے نکال سکے۔بلوچستان کی وہ تصویر جو حکومت دنیا کے سامنے پیش کر رہی ہے، حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ زمینی حقائق اور حکومتی بیانیے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

 

اگر حکومت اپنی توانائیاں محض خوشنما تاثر پیدا کرنے کے بجائے حقیقی کارکردگی دکھانے پر صرف کرتی، تو صوبے کی حالت میں واقعی کچھ بہتری آ سکتی ہیڈمولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام بلوچستان وہ واحد سیاسی جماعت ہے جو صوبے کے زمینی حقائق، عوامی احساسات اور سماجی و سیاسی صورتحال سے بخوبی آگاہ ہے۔ جمعیت نہ صرف ہر طبقہ زندگی کی حقیقی نمائندہ جماعت ہے بلکہ یہ جماعت صوبے کے طول و عرض میں متحرک اور فعال سیاسی کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ امر روزِ روشن کی طرح واضح ہو چکا ہے کہ بلوچستان کی سب سے بڑی عوامی اور اکثریتی جماعت جے یو آئی ہے، اور اس حقیقت کا اعتراف اب مخالفین بھی کرنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کا اقتدار ایسے افراد کے سپرد کیا گیا ہے جن کی عوامی پذیرائی صفر ہے اور جن میں صوبے کے مسائل حل کرنے کی کوئی صلاحیت نہیں۔ انہی عناصر کی وجہ سے بحرانوں کی ایک نئی لہر نے جنم لیا ہے۔ عوام دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں، جبکہ حکومت غفلت اور بے حسی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت علماء اسلام کسی صورت خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کرے گی۔

 

مفکرِ اسلام حضرت مولانا مفتی محمود کانفرنس صوبے کے سیاسی منظرنامے میں ایک تاریخی اور فیصلہ کن موڑ ثابت ہوگی۔ یہ کانفرنس اس بات کا عملی ثبوت فراہم کرے گی کہ عوامی حمایت، سیاسی استحکام اور حقیقی مینڈیٹ کس کے پاس ہے، اور یہ بھی کہ صوبے کے مینڈیٹ کو کس طرح غیر منصفانہ انداز میں چرایا گیا۔اسی سلسلے میں مسلم باغ تحصیل میں مفکرِ اسلام مفتی محمود کانفرنس کی تشہیری مہم کے تحت ہزاروں موٹر سائیکلوں پر مشتمل عظیم الشان ریلی نکالی گئی، جس نے یہ واضح کر دیا کہ جے یو آئی کی عوامی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے، اور یہ کہ محسنِ بلوچستان کے اس قلعے کو تسخیر کرنا ممکن نہیں۔مزید برآں، جلسے کے انتظامات کے حوالے سے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع نے ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ سے تفصیلی ملاقات کی، جس میں سیکورٹی پلان اور انتظامی امور پر جامع غور و خوض کیا گیا۔

 

ملاقات کے بعد مولانا نے جلسہ گاہ کا معائنہ کیا اور مختلف انتظامی اقدامات کا جائزہ لیا۔یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ مولانا عبدالواسع گزشتہ دو ہفتوں سے قلعہ سیف اللہ میں عوامی اجتماعات، رابطہ مہمات اور تنظیمی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، تاکہ مفتی محمود کانفرنس کو ایک تاریخی اجتماع کے طور پر منظم کیا جا سکے اور صوبے میں عوامی بیداری اور سیاسی استحکام کا نیا دور شروع کیا جا سکے۔