وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے باوجود بعض لوگ لاعلمی میں احتجاج کر رہے ہیں۔
’ایکس‘ پر اپنی ٹوئیٹ میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایک طنزیہ بیان میں کہا ہے کہ غزہ کے عوام پر دو سال تک ظلم کے پہاڑ ٹوٹتے رہے، اس دوران دنیا بھر میں احتجاج جاری رہا جن میں زیادہ تر غیر مسلم ممالک کے شہری شامل تھے، لیکن پاکستان میں بعض لوگوں کو شاید اطلاع ہی نہیں تھی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اب جب غزہ میں معاہدے پر دستخط ہو گئے اور جنگ بند ہو چکی ہے، تو فلسطینیوں سے محبت کے دعویدار اسلام آباد میں احتجاجی جلوس نکال رہے ہیں۔
دو سال غزہ کے باسیوں پہ ظلم کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے بچوں کا قتل عام جاری تھا ساری دنیا کی عوام احتجاج کر رہی تھی جن میں بہت بڑی تعداد اور اکثریت غیر مسلم ممالک کے باسیوں کے تھی۔ پاکستان میں بعض فلسطین پہ جان قربان کے خواھش مندوں کو شاید اطلاع نہیں تھی اب جب جنگ بندی کے معاھدے پہ… pic.twitter.com/Ko5ODwLznU
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) October 11, 2025
اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں خواجہ آصف نے طنز کرتے ہوئے کہا، انہیں بتایا جائے کہ لڑائی مک گئی اے، تسی کس گل دا احتجاج کر دے پہ او، گھر جاؤ! فلسطینی مٹھائی کھا رہے ہیں اورہم احتجاج کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں راستوں کی بندش دوسرے روز بھی جاری ہے۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث متعدد سڑکیں بند کر دی گئی ہیں، جب کہ میٹرو اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔
احتجاج کے باعث موبائل فون سروس بھی جزوی طور پر بند ہے۔ لاہور میں بھی اورنج ٹرین اور میٹرو بس سروس معطل کر دی گئی ہے۔