پاکستان کا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ خلا میں پہنچ گیا۔
ہائپراسپیکٹرل سیٹلائٹ ایچ ایس ون چین سے خلامیں روانہ کیا گیا اور سپارکو کے دفتر میں سیٹلائٹ کی روانگی کے مناظر دکھائے گئے۔
ماہرین کے مطابق لانچنگ کے بعد سیٹلائٹ 28 منٹ میں مدار میں پہنچ گیا، سیٹلائٹ سے معلومات کے حصول کے آغاز میں کچھ ماہ لگ سکتے ہیں۔
ترجمان اسپارکو کا بتانا ہے کہ پاکستان کا یہ مشن قومی خلائی پالیسی اور وژن 2047 کا ایک اہم سنگِ میل ہے اور ایچ ایس ون انفراسٹرکچر میپنگ اور شہری منصوبہ بندی کے لیے نئی راہیں کھولے گا جب کہ ایچ ایس ون سے سیٹلائٹ سے زرعی منصوبہ بندی اور ماحولیاتی نگرانی میں انقلاب کی توقع ہے۔
ترجمان اسپارکو کے مطابق ہائپراسپیکٹرل سیٹلائٹ سیلاب، لینڈسلائیڈز اوردیگرقدرتی آفات کی پیشگوئی میں مدددےگا اور یہ سیٹلائٹ ماحولیاتی تبدیلیوں اور ارضیاتی خطرات کی بروقت نگرانی میں معاون ثابت ہوگا۔
ترجمان کے مطابق رواں سال خلا میں بھیجا جانے والا یہ پاکستان کا تیسرا سیٹلائٹ ہے، اس سےقبل ای او ون اور کے ایس ون سیٹلائٹس کامیابی سے خلا میں بھیجے جاچکےہیں اور دونوں سیٹلائٹس اس وقت خلا میں مکمل طور پر فعال ہیں۔
ترجمان اسپارکو کے مطابق پاکستان کا خلائی پروگرام جدید ٹیکنالوجی اور ایپلی کیشنز کےنئےدور میں داخل ہو رہا ہے۔