|

وقتِ اشاعت :   October 19 – 2025

ملک میں مہنگائی کی شرح میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ہفتے کے دوران مہنگائی میں 0.49 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد سالانہ مجموعی شرح 4.57 فیصد تک پہنچ گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق، ایک ہفتے کے دوران 24 اشیائے ضروریہ مہنگی، 8 سستی جبکہ 19 اشیاء کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔
ادارہ شماریات کے مطابق، ایک ہفتے میں ٹماٹر کی قیمت 33.20 فیصد، پیاز 8.70 فیصد، انڈے 2.18 فیصد اور آٹا 1.42 فیصد تک مہنگا ہو گیا۔ اسی طرح چینی، گھی، کوکنگ آئل، لہسن اور آلو سمیت دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تاہم رپورٹ کے مطابق چکن کی قیمت 6.38 فیصد اور کیلے 4.70 فیصد سستے ہوئے جبکہ پیٹرول، ڈیزل، دالوں اور چاول کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی۔
چند روز قبل عالمی بینک نے پاکستان میں حالیہ سیلاب کے باعث معاشی ترقی میں کمی اور مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا تھا ۔
عالمی بینک نے پاکستان کی معاشی صورتِ حال پر رپورٹ جاری کی تھی ،رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کی معاشی شرحِ نمو 2.6 فیصد رہنے کاامکان ہے۔
حکومت نے رواں مالی سال معاشی ترقی کا ہدف 4.2 فیصد مقرر کر رکھا ہے، اگلے مالی سال پاکستان 3.6 فیصد کی شرح سے ترقی کرے گا، عالمی بینک کا کہنا ہے کہ سیلاب کے بعد معاشی بحالی میں سست روی کا خدشہ ہے۔
مالی سال 26-2025 میں جی ڈی پی گروتھ 2.6 فیصد رہنے کا امکان ہے، عالمی بینک نے پاکستان میں رواں مالی سال مہنگائی 7 فیصد سے تجاوز کرنے کاامکان ظاہر کیا ہے۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق سیلاب سے پنجاب میں زرعی پیداوار میں 10 فیصد کمی کا خدشہ ہے، چاول، گنا، کپاس، گندم اور مکئی کی فصلیں سیلاب سے متاثر ہوئیں۔
خوراک کی ترسیل متاثر ہونے سے مالیاتی خسارہ 5.5 فیصد تک بڑھنے کا خدشہ ہے، پاکستان میں معاشی ترقی کا انحصار زرعی شعبے کی بحالی پر ہوگا، رواں مالی سال غربت کی شرح 44 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ اگلے مالی سال غربت کی شرح میں ایک فیصد کمی ہونے کی توقع ہے،محصولات میں اضافے،اخراجات میں کمی اور زرعی بحالی سے بہتری ممکن ہے۔
عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اصلاحاتی منصوبے کے تحت ٹیرف میں کمی سے برآمدات بڑھنے کی امید ہے،سیلاب سے برآمدات متاثر ہوں گی مگر ترسیلات زر اور تیل کی کم قیمتوں سے توازن ممکن ہو سکے گا۔
بہرحال ملک میں مہنگائی میں اضافے سے غریب عوام بہت زیادہ متاثر ہے۔
سیلاب ،قدرتی آفات مہنگائی کی وجوہات ہیں مگر معاشی پالیسی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے ٹھوس اقدامات اور جامع پالیسی بھی نظر نہیں آرہی جس سے عوام کو تھوڑا بہت ریلیف مل سکے ۔
مہنگائی، بیروزگاری کے باعث لوگ اپنی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہیں یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ بہتر معاشی حالات اور منصوبہ بندی کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کرے خاص کر مہنگائی اور بیروزگاری کی شرح میں کمی لانے کیلئے اقدامات اٹھائے تاکہ عوام کے معاشی مسائل میں کمی آسکے۔