پاک افغان جنگ بندی معاہدے پر دوحہ میں اتفاق ہوا ہے جس میں ثالث قطر اور ترکیہ ہیں۔
جنگ بندی معاہدے کو مکمل حتمی شکل دینے کیلئے آئندہ ہفتے اجلاس استنبول میں ہوگا۔
پاک افغان تناؤ میں کمی ایک مثبت پیشرفت ہے، دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات سے افغانستان سب سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے، تجارت کے ذریعے افغانستان پاکستان کی مارکیٹوں سے استفادہ کرسکتا ہے ،طویل سرحدی پٹی دہشت گردی ،دراندازی کی بجائے ٹریڈ کیلئے استعمال ہونا چاہئے، ٹریڈ پوائنٹس قائم کئے جائیں جس سے دونوں ممالک کے تاجر اور عوام کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاک افغان جنگ بندی معاہدے کا بنیادی مقصد دہشت گردی کے مسئلے کو ختم کرنا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاک افغان معاہدہ بنیادی طور پر قطر اور ترکیے کی ثالثی سے ہوا ہے، قطر کے امیر اور ترک صدر کا ثالثی کی کوششوں پر شکریہ ادا کرتے ہیں ، معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے ایک اور اجلاس آئندہ ہفتے استنبول میں ہو گا۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ معاہدے کی تفصیلات پر استنبول میں اتفاق کیا جائے گا۔
قطر اور ترکیے کی موجودگی معاہدے پر بذاتِ خود ضمانت ہے، دونوں ممالک کے درمیا ن مسائل کے حل کیلئے مؤثر طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔
خدشات کے خاتمے سے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہے کہ ہم100فیصد مطمئن ہیں، دیکھنا ہوگا آئندہ دنوں میں معاہدے پر کتنا عمل ہوتا ہے، پاکستان اور افغانستان صدیوں سے ہمسائے ہیں، جغرافیہ بدلا نہیں جا سکتا، امید ہے دونوں ممالک اچھے تعلقات کے ساتھ آگے بڑھ سکیں گے۔
افغان وزیرِ دفاع نے تسلیم کیا کہ دہشت گردی ہی تعلقات میں تناؤ کی اصل وجہ ہے، دہشت گردی برسوں سے پاک افغان سرحدی علاقوں کو متاثر کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اورافغانستان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دہشت گردی کا فوری خاتمہ ضروری ہے۔
پاکستان اور افغانستان دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے سنجیدہ کوششیں کریں گے، دہشت گردی پر قابو نہ پایا گیا تو خطے کے امن کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ہم نے گزشتہ برسوں میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان اٹھایا ، امید ہے کہ امن لوٹے گا اور پاکستان و افغانستان کے تعلقات معمول پر آ جائیں گے ، پاک افغان تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ بھی دوبارہ شروع ہو گی اور بندرگاہوں کو استعمال کیا جا سکے گا۔
افغان مہاجرین کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جن مہاجرین کے پاس قانونی ویزے اور کاغذات ہیں وہ پاکستان میں رہ سکیں گے،افغان مہاجرین کی بڑی تعداد ایسی ہے جن کے پاس کوئی دستاویز نہیں، پاک افغان بارڈر کا استعمال باضابطہ ہونا چاہیے، جیسا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں ہوتا ہے۔
بہرحال پاکستان اور افغانستان کے درمیان مستقل دوستی کی امید اور توقع اس بنیاد پر کی جاسکتی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو، سرحد سے دراندازی نہ ہو، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے افغان طالبان پاکستان کے ساتھ مشترکہ طور پر کوششیں اور عملی کردار ادا کریں،یہ خطے کے مفاد کے ساتھ افغانستان کیلئے بھی ترقی اور خوشحالی کے نئے راستے کھولے گا ،یہ دور جنگ کا نہیں تجارت خوشحالی کا ہے جس میں سب کا مفاد ہے۔