|

وقتِ اشاعت :   October 21 – 2025

کوئٹہ: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنمائوں مری قبیلے کے سربراہ رکن صوبائی اسمبلی نواب جنگیز اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر میر دوستین خان ڈومکی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں موجودہ حکومت سازی کے موقع پر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان ڈھائی ڈھائی سال کا معاہدہ طے پایا جس کے تحت ہماری جماعت مخلوط صوبائی حکومت کا حصہ بنی بلوچستان کا مسئلہ روز بروز شدت اختیار کررہا ہے جس کا واحد حل بات چیت اور مذاکرات میں ہے

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے اقتدار میں آنے سے بلوچستان میں امن وامان کا مسئلہ شدت اختیار کرگیا ہے اب بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کرکے معاملات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر کی بلوچستان میں قیام امن اور صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا وژن قابل تعریف ہے جبکہ صوبائی حکومت ان کی کاوشوں پر پانی پھیر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ میں ڈومکی ہائوس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماء مشیر ایکسائز و ٹیکسیشن حاجی محمد خان لہڑی بھی موجود تھے۔ اس موقع پر نواب جنگیز مری نے کہا کہ ہم نے حالیہ دنوں میں وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے ملاقات کی جس میں انہیں صوبے کی سیاسی صورتحال سمیت دیگر معاملات سے تفصیلاً آگاہ کیا

یہ ملاقات اطمینان بخش رہی جس میں وزیر اعظم نے ہماری باتیں نہ صرف غور سے سنی بلکہ اس سلسلے میں موثر پیشرفت کا بھی یقین دلایا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کا حل نکلنا چاہئے کیونکہ اس کی وجہ سے صوبے کے حالات روز بروز بگڑتے جارہے ہیں امن وامان کی صورتحال کے باعث عوام میں تشویش پائی جاتی ہے عوام کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے اس مسئلے کا حل نکالنے کے لئے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہئے جب تک بات چیت یا مذاکرات نہیں ہوں گے مسائل کا حل ممکن نہیں اس سلسلے میں پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بلوچستان کی بہتری اور عوام کے مسائل کے حل کیلئے سنجیدگی قابل ستائش ہے لیکن صوبائی حکومت ان کی کاوشوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی بجائے اور لوگوں کو روزگار کی فراہمی، مہنگائی اور دیگر مسائل سے چھٹکارا دلانے کی بجائے کرپشن ، اقربا پروری نوکریوں اور فنڈز کی بندر بانٹ میں مصروف ہے اور صوبے کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی بہتری پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کا حل بات چیت سے ہی نکل سکتا ہے چیزوں کو بہتر بنانے کے لئے حقیقی لیڈر شپ یا قیادت اور قبائلی شخصیات اپنا کردار ادا کرسکتی ہیںموجودہ حکومت اس میں اپنا کردار ادا نہیں کررہی نوجوانوں کو صحیح راہ پر لانے کے لئے حقیقی قیادت موثر کردار ادا کرسکتی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ یہ بات واضح ہے کہ بلوچستان میں بیرونی ممالک اور بھارت کی جانب سے فنڈنگ اور مداخلت کی جارہی ہے لیکن صوبائی حکومت صرف یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہوسکتی اگر بھارت مداخلت کررہا ہے تو ہمیں سختی اسے روکنا ہوگا اور اس سلسلے میں موثر لائحہ عمل کی ضرورت ہے تاکہ اس صورتحال کو کس طرح بہتر بنایا جاسکے ۔اور اس کیلئے جب تک حقیقی نمائندوں کو آگے لاکر حالات کی بہتری کے لئے اختیار نہیں دیا جاتا صورتحال بہتر نہیں ہوسکتی انہوں نے بتایا کہ سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے دور اقتدا رمیں صوبے کے حالات کی بہتری کے لئے جو کاوشیں کی گئیں اس سے حالات کی بہتری کی امید پیدا ہوئی تھی لیکن اس عمل کو آگے نہیں بڑھایا گیا لیکن اب موجودہ دور میں جتنے حالات خراب ہوئے ہیں

وہ گزشتہ چند سال میں نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے ہر علاقے میں وہاں کی قبائلی و سیاسی قیادت کو قیام امن کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اور ہماری بھی کوشش ہے کہ اپنے اپنے علاقوں میں حالات کی بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے مابین بلوچستان میں حکومت سازی کے حوالے سے ڈھائی ڈھائی سال کا معاہدہ ہوا تھا۔ اس بات کا ہم نے اس بات کا اظہار ہم نے وزیر اعظم سے اپنی ملاقات میں کیا تھا انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو صوبے کی صورتحال اور سنگینی حالات کے بارے میں غلط گائیڈ کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے صوبے کے حالات میں بہتری نہیں آرہی جب تک صوبے کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے عملی اقدامات نہیں اٹھائے جاتے حالات بہتر نہیں ہوں گے پاک فوج اور حکومتی ادارے صوبے کی بہتری کے لئے اقدامات اٹھاتے ہیں لیکن حکومت ان پر عمل پیرا ہونے کی بجائے غلط روش پر جاکر کرپشن ، ملازمتوں اور ترقیاتی عمل کی خرید و فروخت کرتی ہے جس کی وجہ سے صوبے کے عوام ، اداروں اور وفاق سے متنفر ہوتے ہیں انہوں نے بتایا کہ ہم پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے بھی ملاقات کریں گے

اور پارٹی سمیت صوبے کی حقیقی اور زمینی صورتحال سے آگاہ کریں گے۔ سینیٹر میر دوستین خان ڈومکی نے کہا کہ آج بلوچستان جس صورتحال سے نبرد آزما ہے اس میں موجودہ وزیر اعلیٰ کے برسر اقتدار آنے سے لیکر اب تک روا رکھی جانے والی پالیسیوں اور اقدامات کا عمل دخل ہے جس کی وجہ سے صوبے میں بد امنی کی فضاء روز بروز بڑھ رہی ہے پاکستان پیپلزپارٹی نے 2008ء میں اقتدار میں آنے کے بعد آغاز حقوق بلوچستان پیکج دیا لیکن اس کے بعد اس سلسلے میں مزید پیشرفت نہیں ہوئی انہوں نے بلوچستان میں حکومت سازی کیلئے ڈھائی ڈھائی سال کے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم سے ہونے والی ملاقات میں انہوں نے برملا اس معاہدے کا ذکر کیا ہے اور مدت پوری ہونے کے بعد اس پر عمل درآمد کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت پارٹی میں شامل ہوکر وزارتوں کے مزے لینے والے پیپلزپارٹی کے ساتھ ملکر بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں اس وقت بلوچستان جل رہا ہے کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں ٹرین سروس اور رات کو پبلک سمیت گڈز ٹرانسپورٹ بند ہے

لوگ مشکلات سے دو چار ہے ان کی داد رسی کرنے کے لئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا جارہا ہے اس لئے ہماری وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری سے بلوچستان میں ان ہائوس تبدیلی کی استدعا ہے تاکہ حالات کو بہتر بنایا جاسکے اور مذاکرات بات چیت ہی مسائل کا واحد حل ہے دنیا بھر میں تمام مسائل کا حل بات چیت سے ہی نکالا جاتا ہے انہوں نے بتایا کہ پیپلزپارٹی وفاق میں ہماری جماعت کی اتحادی ہے ان کے تحفظات کے لئے ایک ماہ کا وقت طے پایا ہے انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن کے لئے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے اور جہاں پر آپریشن کی ضرورت ہو وہاں کیا جائے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ادارے اپنا کام کررہے ہیں لیکن حکومت اپنا کام نہیں کررہی اسے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حالات کی نذاکت کو سمجھ کر اس میں بہتری لانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ بلوچستان کو امن کا گہوارہ بناکر ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکے۔