کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے ارکان کی ایک دوسرے پر تنقید ، دونوں جماعتوں کی ایک دوسرے کی حکومتوں کا ساتھ نہ دینے پر حکومتوں کے خاتمے کی دھمکی دے دی،
اپوزیشن کا واک آئوٹ اور کورم کی نشاندہی ، بلوچستان اسمبلی کا اجلاس بدھ کو اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری نے نقطہ اعتراض پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ کراچی چمن شاہراہ کو دوروئیہ کرنے کا کام ست روی کا شکار ہے وزیراعظم میاں شہباز شریف نے 3 سال پہلے کوئٹہ کراچی شاہراہ کا افتتاح کیاتھامگرآج تک نہیں بن سکی اگر کمپنی کام نہیں کرسکتی تو اس فارغ کیاجائے ، ۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے دیڑھ سال میں روڈ مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی جن علاقوں میں حالت خرا ب ہے وہاں کام ہورہاہے اور جہاں ٹھیک ہیں وہاں کام نہیں ہورہاہے، کنسٹریشن کمپنی بہتر کام نہیں کررہی ہیں اب تو پرانے روڈ کی حالت بھی ابتر ہوگئی ہے ۔
جس پر اسپیکر نے رولنگ دی کہ آئندہ ہفتے این ایچ اے کے حکام اور ٹھیکیدار کو طلب کیا جائے گا۔صوبائی وزیر میر سلیم کھوسہ نے کہا کہ حالات بہتر ہوتے ہی قومی شاہراہ کی تعمیر کاکام تیز ہوجائے گا وزیراعظم بلوچستان کی ترقی کیلئے بہت سنجیدہ ہیں ۔
صوبائی وزیر میر صادق عمرانی نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کو کوئی اہمیت نہیں دے رہی ہے اگر پیپلزپارٹی چاہے تو وفاقی حکومت ایک منٹ میں ختم ہوسکتی ہے وفاقی حکومت پیپلزپارٹی سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کررہی ہے، اس ایشوز پر بات کرنے کیلئے ایک دن مقرر کیا جائے ۔
انہوں نے کہا کہ ایک وفد بناکر اسلام آباد جائیں اور وفاقی حکومت سے بلوچستان کے مسائل پر بات کی جائے میں برکت رند کے گھر پر حملے کی مذمت کرتا ہوں۔پیپلز پارٹی کے رکن حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ رکن اسمبلی برکت رند کے گھر پر فائرنگ بلوچ پشتون روایات کے خلاف ہے فائرنگ میں ملوث افراد جلد اپنے انجام کو پہنچیں گے۔
رکن اسمبلی مولوی نور اللہ نے کہا کہ کوئٹہ سے ژوب سی پیک روڈ کے لئے 56 ارب روپے کامنصوبہ ہے56 ارب کے منصوبے کے لئے 56 کروڑ جاری کرنامذاق ہے وفاقی حکومت تو بلوچستان کو کسی کھاتے میں نہیں لاتی ہے وفاق نے صرف صوبے کے وسائل پر نظر رکھی ہوئی ہیں ہم حیران ہیں کہ را صرف بلوچستان کونشانہ بنارہا ہے پنجاب میں را خاموش ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے رکن میر زابد علی ریکی نے کہا کہ سیکورٹی ایکسچینج ایجنسی میں بلوچستان کے ایک نوجوان کو بھرتی کیا گیا ایک ہفتے بعد اسے شوکاز نوٹس دے دیا گیا۔ جس پر اسپیکر نے رولنگ دی کہ میں اس معاملے پر سیکورٹی ایکسچینج ایجنسی کے حکام سے بات کروں گا ۔ جمعیت علماء اسلام کی رکن شاہد رئوف نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے وزرا مرکز میں حکومت کے اتحادی ہیں بلوچستان میں دونوں اتحادی جماعتیں ایک دوسرے کونیچا دیکھانے کی کوشش کررہی ہیں یہ ایک دوسرے کے خلاف اپوزیشن کاکردار ادا کررہے ہیں
ہمیں پہلے اپنی کمزوریاں دیکھنا ہوں گی پھر وفاق کے پاس جاناچاہیے جب وزیراعلی بلوچستان ایوان میں ہوتے ہیں ایوان درست چلتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کی سڑکوں کی حالت ابتر ہے ۔ پارلیمانی سیکرٹری برکت رند نے کہا کہ میرے گھر پر تیسری مرتبہ حملہ کیا گیا ہے جس نے مارنا ہے تو مجھے مار لیں لیکن بچوں، گھر پر حملہ بلوچی روایات نہیں ہے اب بلوچی روایات ختم ہوتی جارہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میرے گھر پر فائرنگ کی گئی تین موٹر سائیکلوں پر چھ بندے آئے جنہوں نے فائرنگ کی، میرے گھر پر فائرنگ کا سلسلہ ایک گھنٹے تک جاری رہا، مسلح افراد کے خلاف ضلعی انتظامیہ کاروائی کرے مسلم لیگ (ن) کے رکن زرک خان مندوخیل نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ہماری اتحادی ہے اور جے یوآئی ف ہمارے ساتھ ہے بلو چستان کے مسائل پر ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ملکر چلنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ ہیں، ہماری جماعت پر اس طرح تنقید کرنا درست نہیں، اگر ن لیگ بلوچستان حکومت سے نکل جائے تو یہاں آپکی حکومت بھی نہیں رہے گی۔
اجلاس میں رکن اسمبلی ڈاکٹر اشکو ک کمار نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی اقلیتی برادری میں کرسچن برادری کو نظر اندازکیا جارہا ہے اقلیتوں کے لیے جاری فنڈز کی بھی تحقیقات کی جائیں ۔
پارلیمانی سیکرٹری سنجے کمار نے کہا کہ بلوچستان میں کرسچن برادری کو نظر انداز کی بات درست نہیں کیا گیا مستحق کرسچن برادری کی امداد کے چیک تیار ہیں جلد دے دیں ۔صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو نے کہا کہ مند میں برکت رند کے گھر پر حملہ افسوس ناک ہے، ایسے واقعات کا تدارک نہ کیا گیا تو صوبے میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوگی ۔
وزیراعلیٰ کی مشیر مینہ مجید نے کہا کہ وہ ہندو برادری کو دیوالی کی مبارکباد پیش کرتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ برکت رند کے گھر پر حملہ قابل مذمت اور روایات کے منافی ہے ۔ صوبائی وزیر میر سلیم کھوسہ نے کہا کہ رکن اسمبلی برکت رند کے گھر پر پولیس اہلکار تعینات کئے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ وفاق پر باجواز تنقید نامناسب ہے مولوی نور اللہ کے حلقے میں وفاقی حکومت دانش اسکول بنا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں سریاب روڈ، سمنگلی روڈ سمیت دیگر سڑکیں تعمیر اور توسیع کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی سڑکوں کی حالت بہتر ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو مسلم لیگ(ن) کے ہر حوالے سے سپورٹ دیا ہے کئی بار ہماری قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا بلوچستان میں وزیراعلیٰ پیپلز پارٹی کا ہے اگر کسی کو شکوہ ہے تو وہ ان سے تحفظات کا اظہار کریں وفاق پر تنقید بلاجواز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی نے مشترکہ جدوجہد کی ہے آئندہ بھی صوبے کے حقوق کی مشترکہ جدوجہد کریں گے ۔
اجلاس میں وقفہ سوالات متعلقہ وزیر کی عدم موجودگی کے باعث موخر کردیا گیا جس پر اپوزیشن لیڈر یونس زہری نے وزیر منصوبہ بندی کی عدم موجودگی پراحتجاج کرتے ہوئے واک آئوٹ کیا اور کورم کی نشاندھی کردی جس پر اسمبلی کا اجلاس15منٹ کے لیے ملتوی کیا گیا ۔
بعدازاں اسمبلی کا اجلا س شروع ہوا تو صوبائی وزیر ریونیو میر عاصم کرد گیلو نے آغا خان پروپرٹیز جانشینی اور منتقلی کا مسورہ قانون پیش کیا جسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا بعدازاں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 24 اکتوبر سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔