کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی نے مرغہ کبزئی کو تحصیل کا درجہ دینے ، سی پیک فیز ٹو میں بلوچستا ن کے لیے منصوبے رکھنے کی قرارداد یں منظور کرلیں ، بلوچستان پولیس کی تنخواہیں دیگر صوبوں کے برابر لانے کا توجہ دلائو نوٹس حکومتی یقین دہانی پر نمٹا دیا گیا، وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی تجویز پر بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی تنخواہیں بڑھانے کا معاملہ اسمبلی کی فنانس کمیٹی کے سپردکردیاگیا ۔
بلوچستان اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو اسپیکر کیپٹن(ر) عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت شروع ہوا ۔
اجلاس میں رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے بلوچستان پولیس کے ملازمین کی تنخواہوں کو دیگر صوبوں کے برابر لانے سے متعلق توجہ دلاونوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر برائے محکمہ داخلہ کی توجہ ایک اہم مسئلہ کی جانب مبذول کروائینگے کہ پولیس نے بلوچستان میں امن و امان کی بابت بے شمار قربانیاں دی ہیں۔
لیکن پولیس کے تنخواہیں دوسرے صوبوں کی بنسبت بہت کم ہیں۔
جس کی وجہ سے پولیس کے ملازمین میں انتہائی مایوسی پائی جارہی ہے۔ لہذا حکومت نے پولیس ملازمین کی تنخواہوں کو ملک کے دیگر صوبوں کے برابر لانے کی بابت کیا اقدامات اٹھائے ہیں۔ تفصیل فراہم کی جائے۔ جس پر صوبائی وزیر میر شعیب نوشیروانی نے جواب دیا کہ حکومت معزز رکن کے سوال سے متفق ہے ہم پولیس کی تنخواہوں کو دیگر صوبوں کے برابر لانے کے لیے اقدامات کریں گے ْصوبائی وزیر کی یقین دہانی کے بعد توجہ دلائو نوٹس نمٹا دیا گیا ۔
اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کے رکن ڈاکٹر محمد نواز کبزئی نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہر گاہ کہ مرغہ کبزئی جو بابڑ ، شیرانی ، خوستی اور کبزئی قبائل پر مشتمل ایک لاکھ دس ہزار آبادی پر مشتمل ایک پسماندہ ترین علاقہ ہے۔ جس کا ایریا تقریباً 5000 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ اسکی سرحدیں ضلع موسی خیل ضلع کی ضلع لورالائی ضلع قلعہ سیف اللہ اور ضلع شیرانی سے جا کر ملتی ہیں۔ جغرافیائی اہمیت کے باوجود یہ علاقہ طویل عرصے سے حکومتی توجہ سے محروم چلا آرہا ہے۔
علاقہ مریضہ کبزئی کے عوام زندگی کی تمام بنیادی سہولیات جن میں ہسپتالوں تعلیمی اداروں اور مواصلاتی نظام کی کمی نے ان کی زندگی کو نہایت ہی کٹھن بنا دیا ہے۔ لہذا انذکورہ بالا حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ مرغہ کبزئی کو تحصیل کا درجہ دینے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے کو یقینی بنائے تا کہ علاقے کے لوگوں کو تعلیم ،صحت ، مواصلات اور زندگی کی دیگر بنیادی سہولیات بر وقت میسر آسکیں۔انہوں نے قرارداد کی موضونیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مرغہ کبزئی میں امن وامان کے حالات خراب ہیں کوئی سرکاری افسر جانے کو تیار نہیں علاقے میں صحت اور تعلیم سمیت دیگر سہولیات میسر نہیں ۔
بعدازاں ایوان نے قرارداد کو منظور کرلیا ۔
اجلاس میں حق دو تحریک کے رکن مولانا ہدایت الرحمن نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہرگاہ کہ گوادر ڈیپ سی پورٹ کی وجہ سے چائنہ کے ساتھ سی پیک کا تاریخی معاہدہ کیا گیا جس سے بلوچستان کے عوام نے توقع رکھی تھی کہ سی پیک معاہدہ بلوچستان کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگا۔
لیکن اربوں ڈالر کے خرچ ہونے کے باوجود بلوچستان کے عوام کو کوئی خاطر خواہ فوائد حاصل نہیں ہوئے۔
جب کہ دوسری جانب سی پیک فیز ٹو پر کام ہورہا ہے اور اس بابت چائنہ کے دورے بھی ہورہے ہیں لیکن تاحال فیز ٹو کے ترقیاتی کاموں میں بلوچستان کا کوئی پراجیکٹ شامل نہیں ہے۔
لہذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ وہ سی پیک فیز ٹو میں بلوچستان کے لئے بڑے پرا جیکٹ شامل کروانے کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کو یقینی بنائے۔ تا کہ صوبہ کے عوام میں پائی جانے والی احساس محرومی کا خاتمہ ممکن بنایا جاسکے۔
انہوں نے قرارداد کی موضونیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پیڑول کی بچت کی خیرات نہیں چاہیے ہم غیرت مند بلوچ اور پشتون ہیں ہمیں سی پیک میں مناسب حصہ دیا جائے ۔
بی این پی عوامی کے رکن میر اسد اللہ بلوچ نے کہا کہ اگر سی پیک پر صحیح عمل ہوتا تو امن وامان کا مسئلہ نہیں ہوتا بلوچستان کے بڑے منصوبے ناکام اس لئے ہوئے کہ مرکز اور بلوچستان کے عوام میں اتفاق نہیں تھاچین نے سی پیک کیلئے قرضہ ایسے ہی نہیں دیاچین نے گوادر پورٹ کو ضمانت کے طور پر رکھا ہے ۔ایوان نے قرارداد کو منظور کرلیا ۔ اجلاس میں نیشنل پارٹی کی رکن کلثوم نیاز بلوچ نے نقطہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کیا جائے ۔
جس پر اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے اراکین کے بعد بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی تنخواہیں سب سے زیادہ ہیں۔
جمعیت علماء اسلام کی رکن اسمبلی شاہدہ روف نے نقطہ اعتراض پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ خضدار سے 18 مزدوروں کو اغواء کیا گیا ہے بلوچستان سے ایک ہفتے میں 27 مزدوروں کو اغوا کیا گیا ہے حکومت ان مزدوروں کو بازیاب کرانے کیلئے اقدامات کرے، امن وامان کے ساتھ ساتھ ہر محکمہ کے حوالے سے بریفنگ رکھی جائے ۔ صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ مجھے بتایا جائے بندوق کے زور پر کسی نے آزادی حاصل کی ہے آزادی دلوں کو جیت کرحاصل کی جاتی ہے کل ایک ڈی ایس پی کو شہید کیا گیا
اس کا کیا قصور ہے سٹرک بنانے والوں کی مشینری جلاکر کون سی آزادی حاصل کرناچاہتے ہیں ۔اجلاس میں وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اظہار خیال کرتے ہوئے اکہ کہ ہمیں اراکین کی تنخواہوں کے معاملے پر غور کرناچاہیے بلوچستان اراکین کی تنخواہوں پنجاب کیاراکین کے برابر کی جائیں ایک کمیٹی بنادی جائے جوتنخواہوں کا معاملے دیکھے ۔جس پر اسپیکر نے رولنگ دی کہ اراکین کی تنخواہوں کے معاملے کو فنانس کمیٹی کے اجلاس میں رکھا جائے بعدازاں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 14 نومبر کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیاگیا ۔