اسٹیٹ بینک آف پاکستان ( ایس بی پی) نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا، بنیادی شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیر صدارت مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
واضح رہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے پہلے ہی عندیہ دیا تھا کہ شرحِ سود میں کمی کا امکان نہیں ہے، کیونکہ مہنگائی کے حوالے سے غیر یقینی صورتِ حال اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری مذاکرات اس فیصلے پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ پالیسی ریٹ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا انحصار آئی ایم ایف کے مذاکرات کے نتائج اور حالیہ سیلاب کے معاشی اثرات پر ہوگا۔
جمیل احمد نے کہا تھا کہ مہنگائی عارضی طور پر 2026 کے اوائل میں ایس بی پی کے درمیانی مدت کے ہدف 5 سے 7 فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے، تاہم موجودہ اور اگلے مالی سال کے دوران اوسطاً یہ اسی دائرے میں رہنے کی توقع ہے۔
تجزیہ کاروں اور آزاد ماہرینِ معیشت نے بھی شرحِ سود میں کمی کے امکان کو مسترد کردیا تھا، کیونکہ حالیہ مہنگائی میں اضافہ اور مرکزی بینک کا محتاط رویہ قلیل مدتی نمو کے بجائے مجموعی معاشی استحکام کو ترجیح دیتا ہے، ستمبر میں مہنگائی 3 فیصد سے بڑھ کر 5.6 فیصد تک پہنچ گئی تھی، جس کی ایک بڑی وجہ سیلاب سے پیدا ہونے والے خلل تھے۔