اسلام آباد: تحریک تحفظ آئین نے 27ویں ترمیم کی جعلی منظوری کے اگلے دن یوم سیاہ منانے کا اعلان کردیا۔
جبکہ قومی مشاورتی اجلاس کے بعد ملک گیر جلسے جلوسوں کا اعلان کیا جائے گا۔
اعلامیہ کے مطابق اسلام آباد میں اسی ہفتے قومی مشاورتی کانفرنس بلائی جائے گی جس میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کو بلایا جائے گا۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ 27ویں ترمیم کی جعلی منظوری کے اگلے دن یوم سیاہ منایا جائے گا۔
عوام سے اپیل ہوگی کہ سیاہ پٹیاں باندھ کر یومِ سیاہ میں شریک ہوں جبکہ وکلا عدالتوں میں کالی پٹیاں باندھ کر احتجاج کریں گے۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں نیا عمرانی معاہدہ لایا جائے۔
ہمیں عوامی رائے سازی کا آغاز کرنا ہے جس کے لیے کمیٹی بنادی ہے۔
اس مشاورت کو صرف اوپر کی سطح تک نہیں رکھیں گے، تاجر تنظیموں کو بھی اس مشاورت میں شرکت کی دعوت دیں گے۔
ہر عوامی رائے ساز سے درخواست ہے اس پر خیالات کا اظہار کرے۔
تحریک تحفظ آئین کے اعلامیہ کے مطابق عدلیہ کا نظام منہدم کیا جارہا ہے۔
وکلا کا اس مشاورت میں کلیدی کردار ہوگا، بار کونسل شرکت یقینی بنائیں۔
سپریم اور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج صاحبان سے وفد کی صورت میں ملاقات کی جائے گی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین تحریک تحفظ آئین محموداچکزئی نے تحریک چلانے اور پارلیمنٹ نہ چلنے دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آج سے تحریک شروع ہے۔
رات ساڑھے 8 بجے سے نعرے شروع کر دیں گے اور آج کا نعرہ ہو گا ایسے دستور کو ہم نہیں مانتے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ چھٹی کے دن آئین پر حملہ کیا گیا، پاکستان کی بنیادوں پر حملہ ہوا ہے، یہ بھی 9/11 ہے۔
ہم سب کچھ جانتے ہوئے اپنے ارادے سے یہاں آئے ہیں، پاکستان پر بغیر الیکشن کے یہ ٹولہ قابض ہوا ہے۔
مشترکہ پریس کانفرنس میں مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ ستائیسویں ترمیم شخصیات کے فائدے اور نقصانات کو سامنے رکھ کر کی گئی ہے۔
آئین کا شخصیات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
اشرافیہ اپنے مفادات کے لیے آئین میں ترمیم کر رہی ہے، استثنیٰ کی بندر بانٹ جاری ہے۔
اس موقع پر سینیٹر راجہ ناصر عباس نے کہا پارلیمنٹ اور عدلیہ کو تباہ کر دیا گیا ہے، یہ ملک کو تباہی کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔
ترمیم کا راستہ روکنے کیلئے ہر حد تک جائیں گے۔
پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں نامزد اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 11نومبر کو ملک کے آئین کی بنیادی ڈھانچہ پر حملے کو نائن الیون کے حملے سے تعبیر کرتے ہیں۔
ہم آج کے پریس کانفرنس میں یہ سمجھتے ہوئے اس ارادے سے آئیں ہیں کہ زور آور لوگ ہمیں ایذائیں دینگے لیکن ہمیں حکم اذان ہے ہم ملک، آئین، جمہوریت اور پارلیمنٹ کی خودمختاری کا دفاع کرینگے۔
1993میں سپیکر سے میں نے کہا کہ ہماری حلف فارمولیٹی ہے یا اس پر عملدرآمد بھی کرنا ہوگا۔
جب کوئی زور آزما آئین پر حملہ آور ہوگا تو اس سے ہم نے آئین کا دفاع کرنا پڑیگا ایسی صورت میں کیا ہم یہ حلف لینے والے سینکڑوں لوگ اس پر عمل کرینگے یا نہیں؟
آج اس ملک میں وہی کچھ ہورہا ہے جس کا میں نے 1993میں ذکر کیا تھا۔
ہمارے احتجاج کا یہ سلوگن ہوگا حبیب جالب کا شعر ’’ایسے دستور کو، صبح بے نور کو، میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا‘‘۔
آمریت مردہ باد، جمہوریت زندہ آباد، عمران خان اور تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرو۔
عدالتوں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔
آئیں ہم سب اُٹھیں اور اس ملک کو بچائیں چاہے اس کے لیے ہمیں کوئی بھی قربانی دینی پڑے۔
پریس کانفرنس سے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے دیگر اکابرین علامہ راجہ ناصر عباس، مصطفی نواز کھوکھر، اخونزادہ حسین یوسفزئی ودیگر نے بھی خطاب کیا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان یعنی ہمیں ادراک ہوچلا تھا کہ فارم 47اور ریاستی زروزور کی بنیاد پر یہ جو بدبخت ٹولہ پاکستان پر قابض ہوچکاہے یہ پاکستان کو ڈبونے جارہے ہیں۔
میں اکثر انٹرویوز میں کہتا تھا کہ میرے اس انٹرویو کو ہمارے سامعین ڈوبتے جہاز کا SOSسمجھے۔
جو بھی صحافی میرے پاس آئیں میں ان کا شکر گزار ہوں میں نے ان سے کہا کہ میرے دانش میں ہماری تحریک تحفظ آئین پاکستان کو ڈوبتے جہاز کا SOSسمجھا جائے اور ہمارے یہ خدشات ٹھیک ثابت ہورہے ہیں۔
ہم اس ملک سے محبت کرنے والے لوگ ہیں۔
کم سے کم مجھ سے پانچ دفعہ حلف لیا گیا ہے کہ آئین کا دفاع کرنا ہے۔
یہ موجودہ سپیکر اس نے بھی دو بار حلف لیا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ 1993میں جب میں منتخب ہوکر آیا عمر ایوب خان کا والد سپیکر تھے۔
میں نے پوائنٹ آف آرڈر پر کہا تھا کہ سپیکر صاحب آپ نے کل ہم سینکڑوں اراکین سے آئین کی تحفظ کا حلف لیا۔
اگر یہ فارمیلٹی ہے تو پوری ہوگئی لیکن اگر ہم نے یقین رکھنا ہے اسے چلانا ہے تو پھر ہم یہ کیسے کرسکے گے؟
سپیکر صاحب نے کہا کہ اچکزئی صاحب میں آپ کی بات نہیں سمجھ رہا؟
میں نے کہا میں آئین کی بات کررہا ہوں کہ آپ نے حلف لیا کہ ہم آئین کا دفاع کرینگے کس طرح؟
انہوں نے کہا کہ اس بات پر زور نہ دے آپ کی سیٹ جاسکتی ہے۔
میں نے کہا کہ مجھے آپ سمجھائیں۔
میں نے کہا پھر مہربانی کرکے ہم سب سے ایک حلف اور بھی لے لیں کہ اگر کوئی سرپھیرا جرنیل یا کوئی اور آئین کی خلاف ورزی کریگا تو ہم پاکستان کے یہ تمام لوگ یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اُس دن تمام پاکستانی سڑکوں پر ہوں گے۔
میری بات کو درخور اعتناع نہیں سمجھا گیا اور مجھے کہاگیا کہ اچکزئی صاحب آپ بیٹھ جائیں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہاں جھوٹے پروپیگنڈے کیئے جاتے ہیں اور غلط تاثر دیا جاتا ہے کہ پاکستان کو اکٹھا رکھنے کے لیے جو عنصر ہے وہ مذہب ہے۔
مذہب اسلام 57ممالک کے تقریباً 2 ارب انسانوں کا مشترک ہیں۔
یہاں افغانستان کے ساتھ ہمارا رشتہ خونی، قبائلی ہیں زبان، قوم بھی ایک ہے۔
وہ رشتے ہم تب بھولیں گے کٹ کرنا چاہتے ہیں جب یہاں جمہور کی حکمرانی ہوگی۔
جب یہاں بنیادی طور پر انسانوں کا احترام ہوگا، منتخب پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوگی، آئین، قانون کے سامنے ہر آدمی برابر ہوگا۔
لیکن جب یہاں ایسا ہوگا کہ 45فیصد افراد غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور یاروں کو یہ پڑی ہو کہ زندگی بھر کے لیے تمام عدالتوں کی پائمالیوں سے مستثنیٰ کیا جائے۔
تو پھر کس کی تحقیقات ہوگی؟
کیا نشے کے عادی مریض جو سائیکل، جوتے چوری کرتا ہے اس پر کیس چلائینگے؟
اور جو بڑے عہدوں پر بیٹھ کر ملک کو لوٹ رہے ہیں یا ایک فرد چاہے جو بھی ہو آپ ترمیم کے نام پر استثنیٰ دے رہیں۔
فرد کی مضبوطی پاکستان کو نہیں بچائیگی بلکہ جمہوریت، آئین، عوام کی مضبوطی پاکستان کو بچائیگی۔
فارم 47کے نمائندوں کو یہ حق ہی نہیں پہنچتا کہ وہ ترمیم کرے۔
محمود خان اچکزئی نے کہاکہ ہم اپیل کرینگے سوسائٹی کے تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں جرنیل، ججز، جرنلسٹ چاہے جو بھی مرد وزن اس ملک سے محبت کرتا ہے یا آئین کی بالادستی چاہتا ہے ہم انہیں خبردار کرتے ہیں کہ ہمارے ملک کی بنیادوں پر حملہ ہے۔
آئیں ہم سب اُٹھیں اور اس ملک کو بچائیں چاہے اس کے لیے ہمیں کوئی بھی قربانی دینی پڑے اور اگر ہم یہ نہیں کرینگے تو نہ ہمیں اللہ تعالیٰ بخشے گا اور نہ ہمیں ہمارا ضمیر معاف کریگا۔
پاکستان کے تمام عوام سے جو ہماری باتوں کو سمجھتے ہیں ان سے اپیل کرتے ہیں کہ خدا کے لیے ہماری رہنمائی کریں، آئین ہم سب مل کر اجتماعی دانش سے ایک ایسا نظام بنائیں جس سے ان بلائوں کو روکا جاسکتا ہے ورنہ پھر دیر ہوچکی ہوگی۔
سکول کے بچے، کوئی سیاسی پارٹی، نوجوان، پرائیویٹ سوسائٹی کے لوگ، مذہبی لوگ کوئی بھی نکلے توپھر آپ گولیاں مارینگے۔
اختلاف ہوسکتا ہے لیکن ایسا نہیں چلے گا۔
آپ لوگوں کو کیوں مجبور کررہے ہیں کہ وہ بھی تمہارے مقابلے میں کھڑے ہوں۔
ہم پاکستان کے لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں کہ نہ کسی کو گالی دینگے، نہ پتھر مارینگے، نہ بُرا بلا کہینگے۔
ہمیں حکم اذان لا الہ اللہ، ہم نے نکلنا ہے۔
کل ہم نے ابتداء کے طور پر علامہ راجہ صاحب اور ساتھیوں کی اجازت سے ہم نے ویڈیو پیغام دیا کہ آج رات ساڑھے 8بجے سلوگن شروع کرنی ہوگی وہ حبیب جالب کا شعر ’’ایسے دستور کو، صبح بے نور کو، میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا‘‘۔
آمریت مردہ باد، جمہوریت زندہ آباد، عمران خان اور تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرو۔
کالی پٹیاں باندھنی ہوگی۔
سارے پاکستانیوں، مرد وعورت، بچوں، نوجوانوں سب نے نکلنا ہوگا۔
عمران خان کے کارکن بضد تھے کہ تحریک کب شروع ہوں گی تحریک شروع ہوچکی ہے۔
آج رات اتنی چیخ وپکار ہونی چاہیے کہ پاکستان کے اقتدار کے ایوان لرز اٹھے کہ انسان جب چیختا ہے تو اس کا اثر کیا ہوتا ہے۔
ہماری کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں لیکن جو ہمارے آئین پر، بنیادی انسانی اصولوں، پاکستان کے عوام کے حقوق پر حملہ آور ہوگا اس کا ہم نے ہاتھ روکنا ہوگا اور ہم آپ سے دعا اور امداد کی توقع رکھتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آئین میں جو بھی ترمیم کررہے ہیں چاہے وہ سویلین ہو یا ملٹری والے جو اسے سپورٹ کررہے ہیں ہم انہیں آرٹیکل 6کے تحت مجرم سمجھتے ہیں۔
چونکہ عدالتوں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں یہ عدالتوں بلکہ سپریم کورٹ کے ججز کو کہنا چاہیے تھا کہ تم آئین پر حملہ آور ہورہے ہو اور جب تک جج یہ نہیں کرتے ہم آرٹیکل 6کا مقدمہ عوام کی عدالتوں میں لے جائینگے۔
ایک سوال کے جواب میں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جب سے یہ پارلیمنٹ بنی ہے میری رائے تھی کہ کسی صورت بھی ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون نہیں ہونا چاہیے یہ ہمارے مینڈیٹ کے چور ہیں۔
زر وزور کی بنیاد پر انہوں نے پاکستان کے کروڑوں عوام کا مینڈیٹ چھینا ہے۔
ان سے اگر مذاکرات بھی ہو تومذاکرات اس بنیاد پر ہوں گے کہ میرا لوٹا ہوا مال واپس کردیں۔
اس لیے نہیں ہو گا کہ فلاں وہاں چیئرمین، فلاں وہاں سیکرٹری بن جائے۔
آپ نے مینڈیٹ چوری کیا، ملک کے سب سے پاپولر لیڈر کو جیل میں ڈالا ہے اور جب ان کے لیے بنیادی انسانی حقوق کا استعمال ہوتا ہے آپ نے ہمارے بچوں کو مارا ہے۔
یہ اتھارٹی آپ کو کسی نے دی ہے۔
آپ نے ہمارے بہنوں، بچوں کے ساتھ جو کچھ کیا اُس کا حساب ہم کہاں لینگے۔
ایک سوال کے جواب پر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم بھی سیاسی کارکن رہے ہیں ہمارا بنک بیلنس جمہوری آزادی رہی ہے۔
پاکستان کی پارلیمنٹ کوئی بھی ایسی ترمیم جو آئین، پارلیمنٹ، عوام کی طاقت، سول سپرمیسی کو مضبوط کرتی ہو غیر مشروط طور پر اس بدبخت حکومت کے پاس ہیں حالانکہ یہ عوامی نمائندہ پارلیمنٹ نہیں اور نہ ہی انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ ترمیم کرے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ وہ مانتے ہیں اسی لیے انہیں جیل میں رکھا ہوا۔
جب کسی ڈکٹیٹر کو دس سال کی بداعمالیوں کی چھٹی دی جاتی ہے تو پارلیمنٹ کی ریزولیشن آجاتی ہے کہ ایوب خان، ضیاء الحق کے دور میں جو کچھ ہوا وہ سب معاف۔
کراچی، راوالپنڈی میں جو قتل عام ہوا وہ سب معاف۔
اس لیے انہوں نے یہ ترمیم رکھی ہے۔
خدا تعالیٰ نے اپنے پہلے نبی آدم علیہ اسلام کو بھی معمولی غلطی پر سزا دی۔
کسی ظالم کو پیغمبر نہیں بنایا اور کوئی آدمی اُس وقت تک پیغمبر نہیں بنایا جب تک اُس میں یہ صلاحیت نہ تھی کہ وہ ظالم ترین حکومت کے سامنے کھڑا نہ ہو۔