کوئٹہ: تحریک تحفظ آئین پاکستان اورپشتونخواملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ہم آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کرتے ہیں ایسی پارلیمنٹ چاہتے ہیں جو طاقت کا سرچشمہ ہو جہاں پر آئین کی حکمرانی ہو کسی کو اختیار نہیں کہ آئین کی بنیادیں ہلادیں موجودہ حکومت نے آئین کی بنیاد ہی اکھاڑ دی ہے
ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ظلم اور ظالم حکمرانوں کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ پاکستان 5 قوموں کا مسکن ہے یہ ایک سوشل کنٹریکٹ کے ذریعے چلے گااس لئے قوموں سے بات کرکے ملک کو چلایا جائے موجودہ حکومت نے آئین کی بیخ نکال دی ہے جنگ پاگلوں کا کام ہے ہم جنگ کے حامی نہیںکیونکہ اسلام میں جنگ کو پسند نہیں کیا جاتا پاکستان کو بنانا ہے
تو یہ طریقہ نہیں چلے گا ہر جگہ قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے
یہ سلسلہ ختم ہونا چاہئے ملک میں 90 کروڑ کا ووٹ فروخت ہورہا ہے اس رقم سے کتنے ہسپتال اور کتنے کھانا کھلایا جاسکتا ہے افغانوں نے پاکستان کی جنگ لڑی روس کا مقابلہ کیا اب ان کی بلوچستان سمیت دیگر صوبوں میں تذلیل کی جارہی ہے جو درست عمل نہیں ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشتونخواملی عوامی پارٹی کے بانی خان عبدالصمد خان اچکزئی کی 52ویں برسی کے موقع پر کوئٹہ میںمنعقدہ جلسہ سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ جلسے سے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ،بلوچستان نیشنل پارٹی ، پاکستان تحریک انصاف سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نواب ایاز خان جوگیزئی، ساجد ترین ایڈووکیٹ، اخونذادہ حسین یوسفزئی، خالد یوسف چوہدری، عبدالرحیم زیارتوال، عبدالرئوف لالا، عبدالقہار خان ودان، سید شراف آغا، دائود شاہ کاکڑ، کبیر افغان سمیت دیگر رہنمائوں نے بھی خطاب کیا۔
محمود خان اچکزئی نے کہاکہ ہم ایسی پارلیمنٹ چاہتے ہیں جہاں عوام کے منتخب نمائندے بیٹھے ہوں ، جہاں آئین وقانون اور عوام کے حقوق کی باتیں ہوں ، اور ملک کی داخلہ و خارجہ پالیسیاں پارلیمنٹ میں بنیںظالم حکمرانوںکے خلاف کوئی کھڑا ہو یا نہ ہو پشتونخوا میپ اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کھڑی ہوگی ، آج پختونوں کو قومی اتحاد اور قومی اتفاق کی ضرورت ہے ، پشتونخوا میپ نے فیصلہ کیا ہے کہ عوام کے باہمی مسائل عوام کو بیٹھا کر حل کریں گے پاکستان میں آج 2 قسم کی عدالتیں ہیں ایک سیاسی عدالت ہے
جو ان لوگوں کے خلاف بنائی گئی ہے جو جمہوری اور مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی سہیل آفریدی صوبے کے چار کروڑ عوام کا نمائندہ ہے ، وہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے اڈیالہ جیل کے باہر بیٹھے تو خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے کی دھمکیاں آنا شروع ہوگئی ہیں انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمت کرکے گورنر راج لگا ئیں پھر ہم عوامی راج لگائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ چوری شدہ یا زر و زور کی بنیاد پر حاصل کردہ اکثریت رکھنے والی پارلیمنٹ آئین کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کا حق نہیں رکھتی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایسی اکثریت حاصل کرنے کے لیے پی ٹی آئی کے خلاف ریاستی جبر کیا گیا،ہزاروں گھروں کی چادر و چار دیواری پامال کی گئی، کارکنان کو تھانوں اور عقوبت خانوں میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، عزتِ نفس مجروح کی گئی۔ اس کے باوجود عوام نے پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا، مگر ووٹ گننے کے بجائے تیسرے اور چوتھے نمبر کے امیدواروں پر ٹک مارکر انہیں کامیاب قرار دیا گیا، بعض کو کروڑوں روپے کے عوض جتوایا گیا۔جب پھر بھی اکثریت پوری نہ ہوئی تو ’’تھوک کے حساب‘‘ سے اپوزیشن ارکان کو عدالتی فیصلوں کے ذریعے نااہل کرا کے نشستیں جعلی حکومت کی جھولی میں ڈال دی گئیں۔
ایسی پارلیمنٹ کی نمائندہ حیثیت کہاں سے آئی؟ اور جب ہم یہ سوال اٹھاتے ہیں تو حوالدار اسپیکر ناراض ہو جاتا ہے۔انہوںنے کہا کہ عدالتیں بھی اب انصاف دینے سے قاصر ہیں۔ ہمیں حق و باطل پارلیمنٹ اور عدالت میں فرق سمجھ کر عوام کو آگاہ کرنا ہوگا۔ اسی لیے تحریکِ تحفظ آئین پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ ظلم کے خلاف کھڑے ہوں گے، کیونکہ ظلم پر خاموشی خدا کی پکڑ کا باعث بنتی ہے۔
ہم ظلم کے سامنے سر جھکانے والے نہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر چار کروڑ آبادی والے خیبر پشتونخوا کے حقیقی مینڈیٹ کو پامال کرکے گورنر راج نافذ کیا گیا تو ’’ہم سڑکوں پر عوامی راج قائم کریں گے‘‘۔امن و امان اور دہشت گردی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پشتون اور بلوچ خطہ وسائل سے مالا مال ہے، اسی لیے یہاں گڑبڑ کی جاتی ہے۔ ’’آپ تیراہ اور وزیرستان میں بمباری کرکے شہریوں کو قتل کرتے ہیں اور پھر مذاکرات، مذاکرات کھیلتے ہیں۔‘‘جہاں آئین و قانون کی حکمرانی ہو وہاں وردی تحفظ کی علامت ہوتی ہے، لیکن ہمارے ملک میں وردی خوف کی علامت بن چکی ہے۔ ہم امن کے داعی ہیں،
جنگ وحشی جبلت کی علامت ہے۔ ملک میں حکمرانی اور وسائل کی تقسیم کا اختیار قومیتوںپشتون، بلوچ، سندھی، پنجابی اور سرائیکی کو ملنا چاہیے۔ وسائل پر طاقتوروں اور اشرافیہ نے قبضہ کر رکھا ہے جبکہ غریب کو مزدوری اور کاروبار سے بھی روکا جا رہا ہے، گوداموں اور شورومز پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’بینظیر بھٹو کو کیوں قتل کیا گیا؟‘‘ ہم نے ہمیشہ ہر آمر اور جابر کا مقابلہ کیا اور کرتے رہیں گے۔ جو نہ بکیں اور سچ کہیں انہیں غدار قرار دے دیا جاتا ہے۔
نواب ایاز خان جوگیزئی نے خطاب میں کہا کہ خان شہید اور محمود خان اچکزئی نے ہمیشہ آئین، جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی کے لیے جدوجہد کی۔ ملک کی خارجہ پالیسی آزاد نہیں اور آئین کا وہی حصہ فعال رکھا گیا ہے جس سے ریاست کو گولی اور ڈنڈا چلانے کا اختیار ملتا ہے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان اخونزادہ حسین یوسفزئی نے قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کے خلاف قرارداد اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی دھمکیوں کی مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ پیر کے روز خیبر پشتونخوا اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کے حق میں قرارداد پیش کر کے منظور کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان عوامی مزاحمت کا استعارہ اور مظلوموں کی آواز بن چکے ہیں، اسی بنیاد پر انہیں ناحق قید میں رکھا گیا ہے۔ ’’ہم یہ ظلم نہیں بھولیں گے اور حساب لیں گے۔
‘‘بی این پی کے سینئر نائب صدر ساجد ترین نے خان شہید کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت اور قوم پرستی کی دعوے دار جماعتوں کے کارکنان کو 26 اور 27ویں ترمیم کی حمایت پر اپنے رہنماؤں سے سوال کرنا چاہیے۔
جلسے سے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما عبدالروف لالا، جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال،تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مرکزی ترجمان اخونذادہ حسین یوسفزئی، صوبائی صدر عبدالقہار خان، پی ٹی آئی کے صوبائی صدر داود شاہ کاکڑ، عمران خان کے وکیل خالد چوہدری ایڈووکیٹ اور پاکستان بار کونسل کے رکن ایاز خان مندوخیل نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں پشتونخوامیپ کے صوبائی سینئر نائب صدر وضلع کوئٹہ کے سیکرٹری سید شراف آغا نے قرارداد پیش کی۔