|

وقتِ اشاعت :   December 6 – 2025

کوئٹہ:  ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سپریم کونسل بلوچستان نے اعلان کیا ہے کہ حکومت کی مسلسل ناکام، کرپشن زدہ اور غیر سنجیدہ پالیسیوں کے خلاف 9 دسمبر 2025 بروز منگل بوقت صبح 11 بجے ریڈ زون کوئٹہ میں فیصلہ کن دھرنا دیا جائے گا۔

حکومت نے ٹراما سینٹر اور بی آئی سی وی ڈی کے نام پر اربوں روپے ہڑپ تو کردئیے، لیکن تا حال ان اداروں کے لیے نہ کوئی ایکٹ بنایا گیا ہے اور نہ ہی کوئی باقاعدہ سروس اسٹرکچر تشکیل دیا گیا ہے۔

یہ حکومتی رویہ نہ صرف مجرمانہ غفلت ہے بلکہ مستقبل میں سینکڑوں ڈاکٹرز کے کیریئر کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ماضی میں ایسے ہی فیصلوں نے سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر اور کڈنی سینٹر ہاسپٹل کے درجنوں ڈاکٹرز کا 10 سال ضائع کیا۔ہم اعلان کرتے ہیں کہ جب تک ٹراما سینٹر اور بی آئی سی وی ڈی کا باقاعدہ ایکٹ اور سروس اسٹرکچر سامنے نہیں آتا، کسی صورت ان منصوبوں کا افتتاح نہیں ہونے دیا جائے گا۔ان منصوبوں میں اربوں روپے کی بدعنوانی کو ہم بارہا سامنے لا چکے ہیں، مگر کرپشن زدہ ٹیم اور نااہل انتظامیہ نے کبھی کوئی جوابدہی نہیں کی۔

نااہل حکوت بلوچستان کی جانب سے بلوچستان کے ڈاکٹرز، پوسٹ گریجویٹس اور ہاس افیسرز کو دیوار سے لگانے کی جو منظم کوششیں جاری ہیں، ان کے خلاف یہ احتجاج ایک تاریخی اور حتمی ردعمل ہوگاگزشتہ دنوں ہاس افیسرز کے ساتھ PMDC اصولوں کے خلاف جو سلوک کیا گیا، وہ محکمہ صحت کی نااہلی اور بدانتظامی کی بدترین مثال ہے۔ہم اس حرکت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ہاس افیسرز کو فوری طور پر پی ایم ڈی سی کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں۔پوسٹ گریجویٹس اور ہائوس آفیسرز کے وظائف میں اضافے کا حکومتی دعوی بھی فراڈ ثابت ہوا۔ اسی سمری میں ہاس افیسرز کا وظیفہ بڑھانے کی تجویز کو جان بوجھ کر حذف کر دیا گیا، اور پوسٹ گریجویٹس کے وظائف میں جو اضاف کیا گیا ہے جو کہ CPSP اصولوں کے خلاف ہے۔

دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان کے ڈاکٹروں کے وظائف بڑھانے کے بجائے، حکومت مسلسل ان کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔

ٹراما سینٹر اور بی آئی سی وی ڈی کے نام پر ہونے والی کرپشن، نااہل وزیر صحت اور بار بار واپس لائے جانے والے سیکریٹری کی مجرمانہ خاموشی نے پورے شعبے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔9 دسمبر بروز منگل، صبح 11 بجے ریڈ زون کوئٹہ میں مضبوط اور فیصلہ کن دھرنا دیا جائے گا۔اگر حکومت بلوچستان نے ہمارے کسی بھی ڈاکٹر کے خلاف لاٹھی چارج، تشدد یا گرفتاری کی کوشش کی تویہ تحریک لانگ مارچ کی صورت میں فورا بلاول ہاس کراچی کے سامنے منتقل کر دی جائے گی،

جہاں پورے پاکستان کو بلوچستان حکومت کے کالے کرتوت دکھائے جائیں گے۔ہم حکومت بلوچستان کو آخری موقع دیتے ہیں کہ 9 دسمبر بروز منگل سے پہلے ہمارے مطالبات حل کرے، ورنہ اس جدوجہد کو ملک گیر سطح تک بڑھایا جائے گا۔

سپریم کونسل ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان مطالبہ کرتی ہے کہ ٹراما سینٹر اور بی آئی سی وی ڈی کا فوری باقاعدہ ایکٹ اور سروس اسٹرکچر بنایا جائے۔

پوسٹ گریجویٹس اور ہاس افیسرز کے وظائف دیگر صوبوں کے برابر کیے جائیں۔ہائوس آفیسرز کے ساتھ حالیہ ناروا سلوک کی تحقیقات کی جائیں اور PMDC قوانین کے تحت ہاس جاب کرنے کی اجازت دی جائے ٹراما سینٹر اور بی آئی سی وی ڈی میں ہونے والی اربوں روپے کی کرپشن پر شفاف انکوائری ہو۔محکمہ صحت کی ناکام اور تباہ کن پالیسیوں کو فی الفور واپس لیا جائے۔