کوئٹہ : شہزاد منیر کے اہلخانہ نازل ، حنار، رخسا و دیگر نے کہاکہ شہزاد منیر کو گزشتہ 2 روز قبل کوئٹہ میں گھر پر اداروں کے اہلکاروں نے چھاپہ کے دوران حراست میں لیکر لے گئے
تا حال معلوم نہیں کہ کہاں اور کس حال میں ہے جس کی وجہ سے اہلخانہ کو ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ہم ریاستی اداروں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ شہزاد منیر کو عدالت میں پیش کرکے منظر عام پرلایاجائے اگر بے گناہ ہے تو رہا کیا جائے۔
یہ بات انہوں نے ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کہی۔
نازل نے کہا کہ گزشتہ شب اداروں کے اہلکاروں نے ہمارے گھر پر چھاپہ مار کر ہماری موجودگی میں میرے کزن شہزاد منیر کو اپنے ساتھ لے گئے
دوران حراست ہمیں نہ کوئی قانونی وجہ بتائی گئی اور نہ ہی کسی قسم کی معلومات فراہم کی گئی جس کی وجہ سے اہلخانہ شدید ذہنی کوفت اور پریشانی میں مبتلا ہیں۔
یہ معاملہ صرف ایک فرد کی گمشدگی کا نہیں بلکہ آئین ، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ آئین پاکستان ہر شہری کو زندگی، آزادی اور تحفظ کی مکمل ضمانت اور شفاف قانونی کارروائی اور منصفانہ ٹرائل کا حق دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرے کزن کو بغیر وارنٹ مقدمہ اور عدالت کے غائب کردینا آئین کی روح کی منافی ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں رہا یا عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ اہلخانہ میںپائی جانے والی بے چینی اور ذہنی کوفت ختم ہوسکے۔ ہم قانون کے دائرہ کار میں رہ کر شہزاد منیر کی بازیابی کیلئے آواز بلند کرتے رہیں گے۔