کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے
کہ انہیں اپنی صفائی کا موقع نہ دیا جانا انصاف کے موثر فراہمی کے دعووں کی نفی ہے جس پر اہل بلوچستان میں تشویش پائی جاتی ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے آوا ز بلند کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچ مظلوم عوام کا ہر مشکل میں ساتھ دیا اور کسی بھی مصلحت پسندی کا مظاہرہ نہیں کیا
اسی پاداش میں ایمان مزاری ، ہادی چھٹہ کو بلوچوں کیلئے آواز اٹھانے پر سزا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے بیان میں سریاب کلی قمبرانی سے ساتک قمبرانی ، بسم اللہ قمبرانی ، معصوم قمبرانی ، حمل قمبرانی ، حیربیار قمبرانی ، آفتاب لہڑی ، بیبرگ کو لاپتہ کرنے کے عمل کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر کوئی کسی جرم میں ملوث ہے تو اسے عدالتوں میں پیش کر کے ٹرائل کیا جائے لاپتہ کرنے کا عمل متاثرہ خاندان کو اذیت ، قرب سے گزارتا ہے جو کہ سراسر انسانی حقوق کی پامالی ہے
بیان میں کہا گیا کہ بلوچ اسی سرزمین کے باسی ہیں تو ان کے ساتھ آئین و قانون کے مطابق رویہ اپنایا جائے تو مسائل کو طاقت کی بجائے مذاکرات سے حل کئے جائیں اربوں روپے امن و امان پر خرچ کرنے کے باوجود بلوچستان کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں
اگر یہی اربوں روپے حقیقی طور پر تعلیم ، روزگار کے حصول سمیت دیگر امور پر شفافیت کے ساتھ خرچ کئے جاتے اور مذاکرات کی راہ اپنائی جاتی تو آج بلوچستان کے حالات پوائنٹ آف ریٹرن پر نہیں ہوتے بیان میں کہا گیا کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر قائم بوگس مقدمے میں ٹرائل کا حق مکمل دیا جائے اور ساتک قمبرانی سمیت دیگر لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایا جائے بلوچستان کا مسئلہ طاقت نہیں مذاکرات سے حل کیا جائے۔