|

وقتِ اشاعت :   December 7 – 2025

پنجگور:  بی این پی عوامی کے مرکزی صدر اور رکن صوبائی اسمبلی سابق صوبائی وزیر زراعت میر اسداللہ بلوچ نے کہا ہے کہ نام کے قوم پرستوں نے ہمیشہ زاتی مفادات کو بلوچستان کے اجتماعء مفادات پر فوقیت دی ہے مائنز اینڈ مینرلز ایکٹ کو پاس کرنے میں بھی انہی نام نہاد قوم پرستوں نے کندھا فراہم کیا ہے

انکو بلوچستان کے عوام سے زیادہ کرسی عزیز ہے پنجگور میں پانی کی اسکیموں پر بدترین کرپشن کیاگیا ہے 40 کروڑ روپے کی نام نہاد میگا پروجیکٹس سے ایک بوند پانی بھی چتکان کے شہریوں کو نصیب نہیں ہوا ہے اور مذید 25 کروڑ ٹینڈر کرکے پیسے ہڑپ کیئے جارہے ہیں

جمہوری اداروں کو کمزور بنانے کی پالیسیاں جاری ہیں تاکہ آمرانہ نظام جڑپکڑے جس سے بلوچستان کی سیاست مذید پیچیدہ بنے گا پہلے اگرایک صوبائی سیٹ کی بولی 20 کروڑ روپے لگتی تھی آنے والوں وقتوں میں یہ بڑھ کر 40 کروڑ ہوجائے گا سیاسی کارکن مستقبل کے لیے صف بندی کریں اور اپنی سیاست کو نظریاتی بنیادوں پر استوار کرکے آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو تیار کریں

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے سابق فنڈز سے تعمیر شدہ جرگہ ہال کی افتتاحی تقریب کی مناسبت سے منعقدہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا جلسہ سے بی این پی عوامی کے مرکزی رہنما مئیر میونسپل کارپوریشن شکیل احمد قمبرانی بی این پی عوامی ضلعی ڈپٹی آرگنائزر حاجی محمد یاسین زہری علی جان بلوچ زبیرایوب اور دیگر نے بھی خطاب کیا

میر اسداللہ بلوچ نے کہا کہ میں نے ہمیشہ بلوچستان کے اجتماعء مفادات کو اولیت دے کر پنجگور کے عوام کی فلاح وبہبود کے منصوبوں پر توجہ دے کر تعلیم صحت اور دیگر اہم منصوبوں پر کام کیا ہے آج پنجگور کے عالیشان سڑکیں خود اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں

کہ میں نے زات سے زیادہ اپنے عوام کو سہولت پہنچانے کی کوشش کی ہے پنجگور میں ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ بارڈر کو بھی عام لوگوں کے روزگار کے لیے کھولوایا جس سے پنجگور کے گھر گھر میں خوشحالی آیا

میر اسداللہ بلوچ نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے کسی بھی موقع پر بلوچستان کے عوام کی ترجمانی نہیں کیا حالیہ مائنز اینڈ مینرلز ایکٹ ہو یا بلوچستان کے دوسرے مسائل ہوں

بحیثیت سہولت کار ہمیشہ اسلام آباد کے حکمرانوں کا ساتھ دیا جو مختلف طریقوں سے بلوچ وسائل پر قابض ہونے کے لیے ایکٹ اور ترامیم کا سہارا لیتے آئے ہیں

انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کی ایک پاوں حکومت اور دوسرا پاوں کہنے کی حد تک اپوزیشن میں ہے پنجگور میں ڈپٹی کمشنر سے لیکر پولیس اور دوسرے محکموں کے سربراہوں کی پوسٹنگ اور وفاداریاں نیشنل پارٹی کے ساتھ ہیں انہوں نے کہا کہ جو اپوزیشن میں ہوتے ہیں

ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او انکی مرضی سے نہیں لگتے یہ منطق کسی کے سمجھ میں نہیں آرہا کہ اپوزیشن ممبر کو ایک وزیر کے برابر حیثیت دی جارہی ہو اور وہ عوام کی انکھوں میں دھول جھونکے کہ وہ اپوزیشن کا حصہ ہے

سیاست کو کاروبار بنادیا گیا ہے پنجگور اس وقت جن نامصائب حالات سے گزررہا ہے وہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے آنے والا وقت انتہاہی مشکل ہوگا

عوام اپنے حقیقی خیرخواہوں کی پہچاں کریں جو کرسی کے اسیر ہیں انکی سوچ وقتی مفادات تک محدود ہوتا ہے آج اگر مکران یونیورسٹی 4 ہزار ایکڑ پر بن رہا ہے

یہ زمین میں نے ہی لینڈ کے قبضہ سے چڑھا کر پنجگور کے نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا ہے اسی طرح ڈسٹرکٹ کمپلکس اور جرگہ ہال اور ڈیجیٹل لائبریری آج جس جگہ پر موجود ہیں یہ زمینین بھی لینڈمافیا نے قبضہ کررکھے تھے اگر اس بات پر میں قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے

یہ مجھے قبول ہے کیونکہ میں نے عہد کرلیا ہے کہ اپنے عوام کی خاطر خون کا آخری قطرہ بھی قربان کردوں گا میر اسداللہ بلوچ نے کہا کہ عوام میرے اور میرے سیاسی مخالفین کے کردار اور کارکردگی کا موزانہ کریں تو میرے مخالفین کے حصے میں ماسوائے جھوٹی طفل تسلیوں کے اور کچھ نہیں آئے گا دو ارب روپے نیشنل پارٹی کے ایم پی اے کو ملے کوئی بتا سکتا ہے یہ خرچ ہوئے نیشنل پارٹی اپوزیشن میں ہونے کا ڈھونگ رچا رہا ہے جتنے مراعات حکومتی وزراء￿ کو ملتے ہیں وہ نیشنل پارٹی کے ایم پی ایز کو بھی مل رہے ہیں

کیونکہ نیشنل پارٹی نے وزیراعلی بلوچستان سے حکومت سازی کے دوران یہ سودابازی کیا تھا

کہ وہ اپوزیشن کا کارڈ کھیل کر دیگر اپوزیشن جماعتوں کو حکومت کے خلاف صف بندی کرنے نہیں دینگے

جس کا انعام سود سمیت نیشنل پارٹی کو فنڈز اور سرکاری محکموں کے آفیسران کی تقرریوں کی صورت میں دیا جارہا ہے

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے عوام کے خلاف کسی بھی ظلم وزیادتی برداشت نہیں کرینگے اور عوام کے جائز حق کے لیے ہر سطح پر کردار ادا کرتے رہیں گے کیونکہ بی این پی عوامی کی سیاست کا بنیادی مقصد عوام کی خوشحالی اور انہیں ایک باوقار زندگی کے مواقعے فراہم کرنا ہے