کوئٹہ: صوبے میں غیر قانونی فیول پمپس کے پھیلاؤ اور اس سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی و معاشی خطرات کے پیشِ نظر محکمہ دھماکہ خیز مواد، وزارتِ پٹرولیم، کسٹم اور محکمہ داخلہ کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات نے کی۔
اجلاس میں متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی اور موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔
اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں غیر قانونی پٹرول اور ڈیزل کی فروخت کے باعث نہ صرف سرکاری محصولات کو نقصان پہنچ رہا ہے
بلکہ اس غیر منظم کاروبار سے صوبے میں حادثات اور سیکیورٹی خدشات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
محکمہ دھماکہ خیز مواد/ ایکسپلوسوز نے بتایا کہ بعض مقامات پر غیر معیاری اور غیر قانونی اسٹوریج کے باعث عوام کی جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
اس سلسلے میں اجلاس نے اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا کہ تمام ڈپٹی کمشنرز (ڈی سی) اور اسسٹنٹ کمشنرز (اے سی) فوری طور پر اپنے اپنے متعلقہ علاقوں میں موجود غیر قانونی فیول پمپس، غیر رجسٹرڈ فروخت مراکز اور ذخیرہ گاہوں کے خلاف مؤثر کارروائی شروع کریں۔
تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ کارروائی میں کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے۔
مزید یہ بھی طے کیا گیا کہ جاری کارروائی کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کی جائے گی، جب کہ تمام اضلاع کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنی پیش رفت سے متعلق رپورٹ بلوچستان انفارمیشن سیکیورٹی ایجنسی (BISA) میں جمع کرائیں۔کارروائی آج سے صوبہ بھر میں باضابطہ طور پر شروع ہو گئی ہے۔
اجلاس میں شریک افسران نے اس عزم کا اظہار کیا کہ غیر قانونی فیول کاروبار کے خاتمے، عوامی حفاظت اور قانونی تقاضوں کی تکمیل کے لیے سخت اور مستقل اقدامات کیے جائیں گے۔
محکمہ داخلہ نے واضح کیا کہ کسی بھی بااثر شخص یا گروہ کو قانون کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔