کوئٹہ: سیکرٹری محکمہ ٹرانسپورٹ حکومتِ بلوچستان حیات خان کاکڑ نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے جدید، صاف اور ماحول دوست سفری ویژن کے تحت صوبے میں ٹرانسپورٹ کے نظام میں بڑی تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نئی آمد والی 21 گرین اور پنک بسوں کے ساتھ کوئٹہ میں چلنے والی بسوں کی تعداد نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔
حیات کاکڑ کے مطابق، پہلے سے شہر میں 8 گرین بسیں چل رہی تھیں، اور اب 17 نئی بسوں کے اضافے کے بعد کوئٹہ میں بسوں کی مجموعی تعداد 25 ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے شہر کے اندر سفری بوجھ میں واضح کمی آئے گی اور عوام کو زیادہ قابلِ اعتماد سفری سہولت میسر ہوگی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ان 21 بسوں میں سے 17 کوئٹہ کیلئے اور 4 تربت کیلئے مختص ہیں، جبکہ ان 17 میں 5 خصوصی پنک بسیں خواتین کیلئے وقف ہیں۔ خواتین کے لیے یہ مخصوص سروس محفوظ، باوقار اور آرام دہ سفر کی نئی پہچان بنے گی۔ سیکرٹری ٹرانسپورٹ نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں پہلے بس روٹ تقریباً 18 کلومیٹر پر مشتمل تھا، جسے بڑھا کر 40 کلومیٹر تک لے جایا جا رہا ہے۔
اس توسیع کے بعد سونا خان سے لے کر کچلاک تک بسوں کا دائرہ کار پھیل جائے گا،
جس سے کوئٹہ کا پورا جغرافیائی نقشہ (Geographic Texture) کور ہو جائے گا۔ اس اقدام کے نتیجے میں شہر کی بڑی آبادی پہلی بار منظم اور جدید بس سروس کا فائدہ اٹھائے گی انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے ذریعے 40 ہزار سے زائد مسافر روزانہ اس جدید اور ماحول دوست بس سروس سے مستفید ہوں گے۔
یہ اقدام نہ صرف شہریوں کے سفر کو آسان بنائے گا بلکہ ٹریفک کے دباؤ میں کمی اور ماحولیات کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
سیکرٹری ٹرانسپورٹ نے کہا کہ حکومت بلوچستان شہری سہولیات کی بہتری کے لیے پوری طرح پرعزم ہے، اور یہ اقدام وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست ویژن کی حقیقی ترجمانی کرتا ہے۔