کوئٹہ، بلوچستان بھر میں انسداد پولیو مہم کل بروز پیر 15 دسمبر سے شروع ہوگی
کوئٹہ، مہم میں 26 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین پلانے کا ہدف مقرر
کوئٹہ، مہم کی تیاریاں مکمل، 11 ہزار 134ٹیمیں حصہ لیں گی,، کوآرڈینیٹر ایمرجنسی آپریشن سینٹر بلوچستان
کوئٹہ، 824 فکسڈ ٹیمیں اور 476 ٹرانزٹ ٹیمیں بھی بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائیں گی، انعام الحق
کوئٹہ: اس سال پاکستان میں 30 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ کوآرڈینیٹر ای او سی بلوچستان
کوئٹہ: رواں سال بلوچستان میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا ، انعام الحق
کوئٹہ، بلوچستان کے ماحولیات میں پولیو وائرس تاحال موجود ہے ، ای او سی کوآرڈینیٹر
کوئٹہ، بارکھان اور چمن میں وائرس پایا گیا ہے۔ انعام الحق کوآرڈینیٹر ای او سی بلوچستان
کوئٹہ، گزشتہ ماہ 23 پولیو وائرس کے حامل علاقوں میں سے 20 میں منفی رپورٹ ہوئے ہیں، انعام الحق
کوئٹہ، ننھے بچے وائرس سے کسی بھی وقت متاثر ہوسکتے ہیں، مہم روک تھام کیلئے اہم ہے، انعام الحق
کوئٹہ، مہم ماحولیات سے پولیو وائرس کے مزید پھیلاو روکنے اور مکمل خاتمے کیلئے اہمیت حامل ہے۔ انعام الحق
کوئٹہ، پولیو لاعلاج معذوری کا باعث بن سکتا ہے والدین بچوں کو لازمی قطرے پلائیں، کوآرڈینیٹر ای او سی
کوئٹہ، بچوں کی صحت کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، انعام الحق کوآرڈینیٹر ایمرجنسی آپریشن سینٹر
کوئٹہ، ایک بچہ بھی اگر پولیو کے قطروں سے محروم رہ جائے تو تمام بچے خطرے میں پڑ جاتے ہیں، بیان
کوئٹہ (پریس ریلیز)
ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (ای او سی) بلوچستان کے کوآرڈینیٹر انعام الحق نے اعلان کیا ہے کہ صوبے بھر میں بروز پیر 15 دسمبر 2025 سے سات روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز ہوگا جس کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے 26 لاکھ 60 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ پولیو وائرس صوبے کے ماحولیات میں موجود ہے جس سےننھے بچے کسی بھی وقت متاثر ہوسکتے ہیں یہ مہم انہی خطرات سے بچوں کو محفوظ بنانے اور ماحولیات سے پولیو وائرس کے خاتمہ کیلئے اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو لازمی ویکسین پلائیں، بصورت دیگر یہ لاعلاج معذوری کا باعث بن سکتا ہے۔
ان کے مطابق مہم کے سلسلے میں تمام انتظامات مکمل ہیں ٹیموں کو شہری و دور دراز علاقوں میں متحرک کر دیا گیا ہے۔
مہم میں مجموعی طور پر 11 ہزار134 ٹیمیں حصہ لیں گی جن میں 824 فکسڈ ٹیمیں اور 476 ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مہم کی کامیابی عوامی تعاون پر منحصر ہے۔
کوآرڈینیٹر ای او سی بلوچستان نے سول سوسائٹی، اساتذہ اور مذہبی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ شعور اجاگر کریں اور والدین کو بچوں کی ویکسینیشن کے لیے آمادہ کریں۔
انعام الحق نے والدین کو حفاظتی ٹیکوں کی اہمیت بھی یاد دلائی جو بچوں کو 12 مہلک بیماریوں مثلاً خسرہ، تپ دق، ہیپاٹائٹس بی اور ڈفتھیریا سے محفوظ رکھتے ہیں۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ قریبی صحت مرکز جا کر بچوں کو وقت پر تمام ویکسین ضرور لگوائیں۔
انہوں نے کہا، “بچوں کی صحت کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، ایک بچہ بھی اگر پولیو کے قطروں سے محروم رہ جائے تو تمام بچے خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔