|

وقتِ اشاعت :   December 14 – 2025

کوئٹہ:ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ و قبائلی امور حمزہ شفقات اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورایہ نے کہا ہے کہ امسال بلوچستان میں 78 ہزار آئی بی اوز کیے گئے جبکہ دہشت گردی کے خلاف کاروائیوں میں 707 دہشت گرد مارے گئے

جبکہ کاروائیوں کے دوران 202 سیکیورٹی اہلکار شہید اور 280 شہری بھی جاں بحق ہوئے اور خاران میں کاروائی کے دوران 3 دہشت گرد گرفتار کیے گئے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سینٹرل پولیس آفس کوئٹہ میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس کی نسبت رواں برس حکومت سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہتر حکمت عملی کے ذریعے سیکیورٹی فورسز پر حملے کم ہوئے دہشت گردوں کی جانب سے عوام پر حملے شروع کیے گئے رواں برس کی سب سے بڑی کامیابی امریکہ کی جانب سے بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جانا ہے

انہوں نے کہا کہ دیگر ملکوں میں بیٹھ کر پاکستان پر دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف انٹر پول کے ذریعے کاروائیاں کی جائیں گی ۔ان کا کہنا تھا کہ زیارت سے اغواء ہونے والے ڈپٹی کمشنر مغوی ڈی سی زیارت کے بیٹے بازیاب ہوچکے ہیں ڈی سی زیارت کے حوالے اطلاعات ہیں کہ انھیں شہید کردیا گیا ہے ۔

ان کی نعش کی تلاش جاری ہے انہوں نے کہا کہ وفاق کی طرف سے بلوچستان کو این ایف سی ایوارڈ سے ہٹ کر 10ارب روپے دئیے گئے ہیںیہ رقم سکیورٹی فورسز کو مزید بہتر بنانے اور ان کے استعداد کار کو بڑھانے سمیت ان کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرنے ، انفراسٹکچر کی بہتری کے لیے خرچ کیے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ قومی شاہراہوں کو سفر کیلئے محفوظ بنانے کے لیے مزید اقدامات کر رہے ہیں دہشت گردوں کے تانے بانے ہمیشہ سے ہی بھارت اور افغانستان سے ملتے ہیں ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملے میں ملوث دہشتگردوں کا تعلق بھی افغانستان سے تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تینوں گرفتار دہشت گردوں کی جانب سے دی گئی معلومات پر اب بھی آپریشن جاری ہیںاس موقع پر ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کائونٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی )اعتزاز احمد گورایہ نے کہا ہے کہ اکتوبر میں ایس ایچ او خاران کو شہید کیا گیا۔دہشت گرد ایس ایچ او کواغوا کر کے ساتھ لے جانا چاہتے تھے، مزاحمت پر اسے شہید کر دیاگیا دہشت گرد ایس ایچ او کو اغوا کر کے پروپیگنڈا کرنا چاہتے تھے اس دہشت گرد گروپ کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے کاروائیاں جاری ہیں۔