|

وقتِ اشاعت :   December 16 – 2025

کوئٹہ:  بلوچستان عوامی پارٹی کی رکن صوبائی اسمبلی فرح عظیم شاہ نے کہاکہ مملکت خداداد کو پاک افواج کی کاوشوں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بدولت آج دنیا بھر میں پذیرائی ملی ہے سانحہ اے پی ایس کے شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا ان کی قربانیوں نے ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنادیا ہے۔

اور پاکستان ایک نئے دور میں شامل ہوچکا ہے جس کی بدولت سابق ڈی جی آئی ایس فیض حمید کو 14 سال بامشقت کی سزا کے فیصلے نے قوم کی جان میں نئی روح پھونک دی ہے اس فیصلے نے ثابت کردیا ہے کہ کوئی بھی عہدہ یا شخصیت قانون سے بالاتر نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔فرح عظیم شاہ نے کہاکہ جب سے فیلڈر مارشل حافظ عاصم منیر نے پاک فوج کی کمانڈسنبھالی ہے نیشنل اور انٹر نیشنل سطح پر ملک کی عزت اور وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ فوج میں احتساب کا عمل شفاف طریقے سے موجود ہے فیصلوں سے معلوم ہورہا ہے کہ سب سے پہلے پاکستان کو رکھ کر مثال قائم کردی ہے کہ کوئی ریاست کو سیاسی یا اپنے مفاد کیلئے استعمال کریگا تو اس کو سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے ملک بنایا اور فیلڈر مارشل نے اسے بچایا ہے۔

جب انصاف کا بول بالا ہوگا تو ملک کو کوئی ترقی سے نہیں روکا نہیںجا سکتا۔ عمران خان اور فیض حمیدنے گٹھ جوڑ کرکے 9 مئی کو ہجوم سڑکوں پر لاکر ریاستی املاک پر حملہ اور سوشل میڈیا پر مہم کے ذریعے ملک بھر میں انتشار پھیلا کر اداروں پر الزام تراشی کی پوچھاڑ کی ۔پاکستان کی سالمیت پر کوئی حملہ کرے گا اس کو نہیں بخشا جائے گا۔ یہ فیصلہ پہلا مرحلہ ہے مزید تحقیقات جاری ہیں ریاست مخالف عناصر کیلئے واضح پیغام ہے کہ پاکستان کے آئین و قانون سے کوئی بالاتر نہیں ہے ۔

فیلڈر مارشل نے احتساب کا عمل گھر سے شروع کرکے عوام کا اعتماد افواج پر بحال کرکے پاکستان کے مستقبل کو تابناک بنادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہوچکا ہے کہ ایک مسلمان عورت کا نقاب کھینچنا قابل مذمت عمل ہے انسانی حقوق کے اداروں کی خاموش لمحہ فکریہ ہے اس گھنائونی حرکت میں ملوث شخص کو معافی مانگنی چاہئے۔ ایک سوال کے جواب میںانہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن وامان کا مسئلہ موجود ہے

سیکورٹی فورسز کے جوان امن کے قیام کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔ اس حوالے سے میں نے اسمبلی فلور پر کہا تھا کہ مسئلہ معاشی ہے اس کو حل کیا جائے تو صوبے کے 80 فیصد مسائل حل ہوجائیںگے۔ بلوچستان معدنی وسائل سے مالا مال ہے قدرتی وسائل کو استعمال میں لاکر صوبے کو ترقی کی پر راہ گامزن کرکے آئی ایم ایف کے قرضوں سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بغیر وزارت کے عوام کی خدمت کیلئے کوشاں رہتی ہوں خدمت کا سلسلہ جاری رکھوں گی تاکہ صوبے کی پسماندگی اور عوام میں پائے جانے والے احساس محرومی کو دور کرسکوں۔