کوئٹہ: سینئر سیاست دان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ بلوچستان کے نوجوانوں، طلبا، باشعور لوگوں اور سیاسی کارکنوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے اس کو اسمبلی ہی میں اگر روکنے میں کامیاب ہوئے تو بلوچستان کے لوگوں کا سیاسی پارٹیوں اور سیاسی عمل پر جو عدم اعتماد ہے اس کو کسی حد تک بحال کرنے میں کامیاب ہوں گے۔
یہ بات انہوں نے جمعرات کو جماعت اسلامی کے صوبائی سیکرٹریٹ میں امیر جماعت اسلامی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی، قبل ازیں نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے جماعت اسلامی کے صوبائی امیر رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ و دیگر پارٹی رہنماوں سے ملاقات کی، ملاقات میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ سمیت بلوچستان کے اجتماعی قومی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سینئر سیاست دان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے تحت بلوچستان کے قدرتی وسائل کو قانون کی آڑ میں لوٹا جارہا ہے، اس ایکٹ کو اگر روکا نہ گیا تو آئندہ نسلیں آج کے سیاستدان، دانشوروں، سیاسی کارکنوں، ایوانوں میں بیٹھے عوامی نمائندگی کا دعوی کرنے والوں کو معاف نہیں کریں گے،
یہ قانون صوبائی اسمبلی میں بنایا گیا اس کو اسمبلی ہی میں اگر روکنے میں کامیاب ہوئے تو بلوچستان کے لوگوں کا سیاسی پارٹیوں اور سیاسی عمل پر جو عدم اعتماد ہے اس کو کسی حد تک بحال کرنے میں کامیاب ہوں گے، انہوں نے کہاکہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کا ازسر نو جائزہ لینے اور اس میں ترمیم کرنے کیلئے حوالے سے بات چیت ہورہی ہے جماعت اسلامی کے بلوچستان اسمبلی میں دو ارکان موجود ہیں ان سے مطالبہ ہے کہ وہ اسمبلی میں بلوچستان کے اجتماعی قومی مفادات کے برعکس بننے والے قانون کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے بلوچستان کا اختیار اس صوبے کو دوبارہ منتقل کریں
اس لیے ہم جماعت اسلامی کے پاس آئے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں سے ملاقات میں ان کی قیادت نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی تجاویز مرتب کی ہیں اب ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پہلے ہی بہت زیادہ تاخیر ہوئی ہے اگر اپوزیشن لیڈر آل پارٹیز کانفرنس طلب کرتے ہیں تو ہم خود چل کر جائیں گے نہ تو ہم بلالیں گے تاکہ مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں سے ہونے والی ملاقاتوں کا ایجنڈا مائنز اینڈ منرلز ایکٹ ہے کیوں کہ تاریخ کا ایک تلخ تجربہ ہے کہ بلوچستان کے گیس کے ذخائر سے آج بھی ملکی معیت کا پہیہ چل رہا ہے لیکن یہاں کے لوگوں کے استعمال کیلئے بھی گیس دستیاب نہیں، سیندک اورریکودک کو فروخت کیا گیا، بلوچستان کے ساحلی پٹی کے لوگ دہائیوں سے غیر قانونی ٹرالرز کی لوٹ مار کیخلاف سراپا احتجاج ہیں۔
جماعت اسلامی کے صوبائی امیر رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی کو آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کو آج تک قومی اکائی سمجھا ہی نہیں گیا، یہاں کے وسائل کو مال غنیمت سمجھ کو لوٹا جارہا ہے،
انہوں نے کہاکہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پر گزشتہ اجلاس میں بھی بات ہوئی، آج ہونیوالے اجلاس میں بھی اس پر بات کریں گے بلوچستان کے حقوق کیلئے ہم اسمبلی کے اندر اور باہر کھل کر بات کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان ہمارا ہے ہم سب کو ملکر جدوجہد کرنی ہے اور مل مشترکہ لائحہ عمل بنائیں گے۔