|

وقتِ اشاعت :   December 21 – 2025

کوئٹہ :نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل میر کبیر محمد شہی نے کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اہم اجلاس طلب کیا اجلاس میں سریاب ٹاؤن ، چلتن ٹاؤن ، زرغون ٹاون اور تکتو ٹاؤن کے امیدواران ، پارٹی عہدیداران اور ذمہ داران نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی اجلاس میں صوبائی صدر چہرمین اسلم بلوچ مرکزی نائب صدر ڈاکٹر اسحاق بلوچ ، ضلعی صدر حاجی عطا محمد بنگلزئی رکن صوبائی اسمبلی خیرجان بلوچ ، کلثوم نیاز بلوچ سمیت پارٹی کے مرکزی اور صوبائی قیادت نے بھرپور انداز سے شرکت کی،

چاروں ٹاوئنز کے نمائندگان اور زمہ داران نے اپنے اپنے رپورٹس پیش کیئے شرکا نے اس امر پر زور دیا سیاسی اور جمہوری عمل میں پارٹی کا کردار انتہائی مثبت ہے نیشنل پارٹی چاہتی ہے کہ صوبائی دارالحکومت کو بجائے ایک ایڈمنسٹریٹر کے ایک عوامی نمائندہ کے ذریعے چلایا جائے جس کے لیئے ضروری ہے کہ انتخابات بروقت اور شفاف ہوں جوکہ الیکشن کمیشن کے لیئے ایک چیلنج سے کم نہیں ،

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میر کبیر محمدشہی نے کہا کہ جن جن پارٹیوں نے انتخابات ملتوی کرانے کے لیئے عدالت گئے ہیں عوام کو چاہئے کہ ان پارٹیوں کے امیدواروں کو مسترد کریں کیونکہ وہ یہ نہیں چاہتے کہ یہ اہم شہر ترقی کرے اور یہاں ایڈمنسٹریٹر کے بجائے میئر کی شکل میں ایک عوامی نمائندہ ہو ،

یہ جماعتیں ایڈمنسٹریٹر کے ذریعے اربوں روپے کی بدعنوانیاں کررہے ہیں اس لیئے نہیں چاہتے کہ کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات ہوں اور عوامی نمائندے آجاہیں اس لیئے عدالت کے ذریعے انتخابات ملتوی کرانے کے تگ و دو میں ہیں لیکن نیشنل پارٹی عدالت میں بھی ان کا پیچھا کررہا ہے، صوبائی صدر اسلم بلوچ نے کہا کہ کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایسے وقت میں ہورہا ہے جب ملک بالخصوص بلوچستان میں مسلط کردہ حکمران ہیں جو الیکشن چرا کر آئے ہیں آج وہ ہی حکمران ہیں

ان کو عوام نے اس انداز سے مسترد کیا کہ وہ اپنے الیکشن کو ملتوی کرنے کے لیئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں ، اجلاس سے ڈاکٹر اسحاق بلوچ ، میر جان بلوچ، کلثوم نیاز بلوچ چنگیز حئی بلوچ ، حاجی عطامحمد بنگلزئی، علی احمد لانگو، سعد دہوار، حاجی عبدالصمد رند ، سعدیہ بادینی، فریدہ بلوچ ، ریاض زہری، اسلم جتک ، حنیف کاکڑ،عارف کرد، انیل غوری، کامریڈ رحمت اللہ، شمس بنگلزئی ، یاسین رند نے بھی خطاب کیا۔