کوئٹہ: جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا ہے کہ آج بھی سیاسی کارکن،جمہوریت آزاد نہیں اورپورا بلوچستان ایک قید خانے کی شکل اختیار کر چکاہے۔
سیاسی کارکنوں کی آزادی,بارڈرزتجارت کھولنے,لاپتہ افرادکی بازیابی چیک پوسٹوں پرعوام کی تذلیل بندکرنے,بدامنی اوربدعنوانی کاخاتمہ ہمارے مطالبات ہیں۔
ان خیالات کااظہارانہوں نے بلدیہ ریسٹ ہاوس حب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ آج بھی بلوچستان میں نہ آزادانہ سفر ممکن ہے،نہ سڑکوں پر بات کی اجازت ہے اور نہ ہی سیاسی جدوجہد کی آزادی حاصل ہے۔ اگر کوئی حق کی بات کرے تو اس کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ خود ایک منتخب رکنِ صوبائی اسمبلی ہیں،جب انہوں نے اسمبلی کے فلور پر بات کی تو بعد ازاں گوادر میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے مطابق سالانہ 200 ارب روپے کی اسمگلنگ ہو رہی ہے،
جس کے خلاف ہم نے احتجاج کیا۔چیک پوسٹوں پر ہمارے کارکنوں کی تذلیل کی گئی اور انہیں قید و بند کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح پانی اور بجلی کے بحران کے خلاف بھی ہم نے احتجاج کیا۔
مولانا ہدایت الرحمان نے بتایا کہ سال2021 میں ہم نے پہلا دھرنا دیا، اس وقت بلوچستان میں سابق وزیراعلی میر عبدالقدوس بزنجو کی حکومت تھی۔ وزیراعلی خود آئے اور ایک ماہ کے اندر مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی کرائی،
مگر حکومت اپنے وعدوں پر پورا نہ اتر سکی۔بعد ازاں 22 نومبر کو دوسرا احتجاج کیا گیا، اس دوران بعض نام نہاد قوم پرست عناصر نے حکومت پر دبا ڈالا کہ ہم سے مذاکرات نہ کیے جائیں،
یہ امید کی جا رہی تھی کہ تحریک خود بخود ختم ہو جائے گی، مگر الحمدللہ گوادر کے غیرت مند عوام آخری دم تک ڈٹے رہے۔
انہوں نے کہا کہ 26 دسمبر 2022 کو ہماری تحریک کے خلاف کریک ڈان کیا گیا،
تمام قائدین کو گرفتار کیا گیا،گھروں پر چھاپے مارے گئے، ماں اور بہنوں پر تشدد کیا گیا اور گھروں سے سونا چاندی تک لوٹی گئی۔
ان کے گھر پر بھی متعدد بار چھاپے مارے گئے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود گرفتاری دی، ہماری جدوجہد مکمل طور پر پرامن تھی، مگر اس کے باوجود ہمیں جیلوں میں ڈالا گیا، تشدد کیا گیا اور تقریبا 250 کارکنوں پر مقدمات درج کیے گئے ۔
مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ اللہ کے فضل سے ہم تمام جھوٹے مقدمات سے بری ہوئے اور عوامی عدالت میں بھی کامیابی حاصل کی۔
آج بھی ہم اسمبلی کے اندر اور باہر اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اس تمام عمل میں بعض قوم پرست عناصر نے مخبر کا کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ سیاسی کارکن کا کام جدوجہد کرنا ہے
جبکہ عملدرآمد حکومت کی ذمہ داری ہے۔
ہم نے ڈالر مافیا کے خلاف احتجاج کیا اگرچہ مکمل کامیابی حاصل نہیں ہو سکی مگر جدوجہد جاری ہے۔
اسی طرح بارڈر بندش اور کاروباری مسائل کے خلاف بھی احتجاج کیا،
تاہم ابھی تک مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔اس موقع پر جماعتِ اسلامی ڈسٹرکٹ حب کے امیر محمد جان مری ایڈوکیٹ، مولانا نیاز محمد، جنرل سیکرٹری حماد اللہ، ناظم اسلامی جعمیت ریاض حسین اور جماعت اسلامی کے عہدیداران اور کارکنان کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔