ہرنائی : پاکستان مسلم کیگ ن اور حاجی نورمحمد دمڑ کاروان کے مرکزی رہنما حاجی ملک محمد رضا ترین نے کہاکہ صوبے حالیہ ڈویژن میں ردبدل کے حوالے سے مختلف افواہیں گردش کررہے تھے
جس میں ضلع ہرنائی کو لورالائی ڈویژن میں شامل کرنے کی خبریں گردش کررہی تھی بلکہ صوبائی کابینہ اجلاس میں پہنچ گء لیکن صوبائی وزیرخوراک حاجی نورمحمد خان دمڑ نے ضلع ہرنائی عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے ضلع ہرنائی کو سبی ڈویژن سے علیحدہ کرنے کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے واضح موقف صوبائی کابینہ میں پیش کرتے ہوئے کہاکہ ضلع ہرنائی عوام کی سوفیصد عوام سبی ڈویژن میں ہی خوش ہے
صوبائی کابینہ میں ہرنائی کو سبی ڈویژن میں برقرار رکھنے پر صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے صوبائی وزیر نورمحمد دمڑ نے حیقیقی معینوں میں عوام کی حق نمائندگی اداکرتے ہوئے بھرپور ترجمانی کی جس نے ضلع ہرنائی کی دل جیت لیا ہے ان خیالات کااظہار انہوں نے مقامی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیاحاجی ملک محمد رضا ترین نے کہاکہ ضلع ہرنائی کو سبی ڈویژن میں برقرار رکھتے ہوئے کہاکہ موجودہ حکومت اور دیگر ریاستی اداروں مطالبہ کرتے ہے کہ ہم موجودہ سبی ڈویژن کے ساتھ بدستور رہے گے چونکہ ایک سو تین (103) سال کے عرصے سے ہم یعینی ہرنائی سبی کا حصہ رہا ہے
انہوں نے کہاکہ ضلع ہرنائی عوام نئے ڈویژن بننے کے مخالف نہیں ہے اگرموجودہ حکومت کو علاقوں اور ضلع ہرنائی کی ترقی مقصود ہے تو ہرنائی تا سبی 35 کلومیٹر روڈ رہتا ہے (اسپین تنگی سے کوٹ منڈائی ) تک ہے انہوں نے کہاکہ ضلع ہرنائی کے عوام مطالبہ کرتے ہے کہ اس روڈ کوفوری طورپر پختہ تعمیر کیا جائے
اور وفاقی حکومت اور وفاقی وزیر ریلوے لائن جو انگریز کے دور سے سبی تا زردآلو کھوسٹ ضلع ہرنائی تک 1886 سے سال 2006 تک مسلسل ٹرینیں چل رہا تھا مگر 2006 سے ٹرین سروس معطل ہے درمیان میں ایک بار چندہ ماہ کیلئے ٹرین سروس بحال ہوئی تاہم شدید بارشوں سیلابی ریلوں سے ہرنائی سبی ریلوے سکیشن/پٹڑی کو شدید نقصان پہنچاکر ریلوے سروس چندہ ماہ چلنے کے بعد دوبارہ بند ہوگء ہے انہوں نے وزیراعظم پاکستان ،وفاقی وزیر ریلوے سے مطالبہ کیا ہے
کہ وہ ہرنائی سبی ریلوے سیکشن/پٹڑی کو سیلابی پانی سے محفوظ سے بنانے کیلئے اقدامات کرکے ہرنائی سبی ریلوے سیکشن کو مستقبل بنیادوں پر بحال کیا جائے ہرنائی سبی ریلوے سیکشن کی بندش سے ضلع ہرنائی کے عوام زمینداروں کو شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا ہورہا ہے انہوں نے کہاکہ ضلع ہرنائی کا معشیت جوکوئلہ معدنیات اور زراعت پر انصار کررہا تھا ٹرین سروس معطل ہونے کی وجہ سے ضلع ہرنائی کے غریب عوام کے معشیت کو کافی نقصان پہنچا چونکہ ریلوے ٹرین سروس ضلع ہرنائی کی معشیت میں اور ضلع ہرنائی کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کا حیثیت رکھتا تھا
لہذا حکومت بلوچستان اور خاص کر وفاقی حکومت اور وفاقی وزیر ریلوے سے ضلع ہرنائی مطالبہ کرتے ہے ہیں کہ سبی سے کھوسٹ جوکہ آمدن دینے والا ریلوے سیکشن تھا جو وفاق کو کوئلہ اورسبزی ودیگر معدنیات کی مد میں کافی آمدنی دے رہا تھا اس سے فوری طور پر مستقل بنیادوں پربحال کیا جائے اور بلوچستان حکومت سے استدعا ہے کہ ہرنائی تا کھوسٹ ریلوے لائن اور ہرنائی سبی روڈ کو تعمیر کرکے تحفظ فراہم کیاجائے انہوں نے کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ضلع ہرنائی کو سبی ڈویژن میں برقرار رکھے انہوں نے کہاکہ ماضی میں بھی ہرنائی ضلع کو لورالائی ڈویژن میں شامل کرنے کی کوشش کہ لیکن صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ نے اس وقت بھی ہرنائی کو لورالائی میں شامل کرنے کی مخالفت کی تھی
اور اب بھی صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ نے حالیہ کابینہ اجلاس میں ہرنائی عوام کی آواز بن کر بھرپور ترجمانی کرتے ہوئے ہرنائی کو سبی سے علیحدہ کرکے لورالائی ڈویژن میں شامل کرنے کی بھرپور مخالفت کی ہے جس پر ہم صوبائی وزیرخوراک حاجی نورمحمد خان دمڑ کو خراج تحسین پیش کرتے ہے اور یہ واضح اعلان کرتے ہے کہ ہرنائی سبی دویژن کا حصہ تھا ہے
اور ہم کسی بھی صورت سبی ڈویژن سے علیحدہ ہونے کو تیار نہیں ہے انہوں نے کہاکہ ماضی کی طرح اب بھی صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ ضلع ہرنائی کی ترجمانی کرتے ہوئے ضلع ہرنائی عوام کے رائے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرتے ہے اور بعض لوگ جو سوشل میڈیا پر منفی پراپیگنڈہ کررہے ہیں
اس میں کوئی صداقت نہیں ہے اور حاجی نورمحمد خان دمڑ نمائندہ کابینہ میں جب تک موجود رہے گا ضلع ہرنائی سوفیصد مطمعین رہے کہ ضلع ہرنائی عوام کے مرضی کے بر خلاف کوئی بھی اقدام نہیں ہوگا حکومت بلوچستان سے مطالبہ کرتے ہے کہ وہ ضلع ہرنائی کا اپنے ڈویژن سبی سے موصلاتی رابطہ بحال کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے۔