|

وقتِ اشاعت :   January 31 – 2026

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں صبح سے دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات کی اطلاعات ہیں جبکہ پولیس حکام کے مطابق، کوئٹہ میں ایک حملے میں دو پولیس اہلکار شہید ہوئے ہیں۔ 

کوئٹہ شہر میں صبح چھ بجے کے قریب سے دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں اب سے کچھ دیر قبل بھی ایک زوردار دھماکہ سنا گیا ہے۔

دوسری جانب سی ٹی ڈی نے کوئٹہ کے سریاب روڈ پر ایک کارروائی کے دوران چار مبینہ حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔بلوچستان حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور فی الحال مزید کچھ نہیں بتایا جا سکتا۔دارالحکومت کوئٹہ کے علاوہ پسنی، نوشکی اور خاران سے بھی حملوں کی اطلاعات ہیں۔

صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے باعث کوئٹہ آنے اور جانے والی تمام ٹرینوں روک دی گئی ہیں۔

کوئٹہ میں سریاب روڈ پر ہیلپر ہسپتال کے نزدیک، طارق ہسپتال اور جناح روڈ کے نزدیک دھماکے کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ کوئٹہ سے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ انھیں لگا کہ گھر ان کے اوپر آکر گر جائے گا۔

جناح روڈ پر یونیورسل کمپلیکس میں ایک دفتر میں کام کرنے والے ایک شخص نے بتایا کہ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ اس نے پوری عمارت کو ہلا کر رکھ دیا۔انھوں نے بتایا کہ عمارت گردوغبار سے بھر گئی