کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے سربراہ سابق سینیٹر و وفاقی وزیر نوابزادہ میر اسرار اللہ خان زہری نے محمود خان اچکزئی کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ لسانی اشتعال انگیزی اور بلوچ قوم کو اجتماعی طور پر دہشتگردی سے جوڑنے کی کوشش ناقابلِ برداشت ہے اور یہ موجودہ سنگین حالات میں صوبے کے مفاد کے سراسر منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے بیانات نہ صرف معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ بلوچستان جیسے زخم خوردہ سماج میں پہلے سے موجود دراڑوں کو مزید گہرا کرتے ہیں۔
میر اسرار اللہ زہری نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کی حالیہ تقریر مایوس کن ہی نہیں بلکہ تاریخ کو انتخابی اور وقتی ضرورت کے تحت یک رخی انداز میں پیش کرنے کی ایک کوشش ہے جس سے بلوچستان کی پیچیدہ اور مشترکہ تاریخی حقیقت مسخ ہو کر رہ جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ مختلف اقوام، ثقافتوں اور لسانی اکائیوں کے باہمی اشتراک سے عبارت ہے بلوچ اور پشتون صدیوں سے اس خطے میں ساتھ رہتے آئے ہیں اور کوئٹہ ہمیشہ ایک مشترکہ کثیرالقومی شہر رہا ہے ذیسے میں کسی ایک قوم یا شناخت کو مرکز بنا کر پورے جغرافیے کو متنازعہ بنانے کی سوچ نہ اپوزیشن کی اجتماعی ترجمانی ہو سکتی ہے اور نہ ہی یہ پارلیمانی دانش کے زمرے میں آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان آج جن سنگین مسائل بے روزگاری، معاشی بدحالی، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، امن و امان کی کمزوری، تعلیم و صحت کے بحران اور سیاسی بے یقینی سے دوچار ہے ان کا حل نسلی یا لسانی برتری کے بیانیوں میں نہیں بلکہ آئینی، جمہوری اور معاشی انصاف میں پوشیدہ ہے اس طرح کے بیانیے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے مترادف ہیں اور بدقسمتی سے یہ طرزِ سیاست برسوں سے دہرایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ ایک سنجیدہ علم ہے اسے الزام تراشی شخصی حوالوں یا نسلی مناظروں کا موضوع بنانے کے بجائے تحقیقی متوازن اور غیر جانبدارانہ انداز میں دیکھنا چاہیے۔ افراد یا خاندانوں کی بنیاد پر پوری قوم یا خطے کی شناخت متعین کرنا نہ جمہوری طرزِ فکر ہے نہ پارلیمانی روایت اور نہ ہی اس خطے کی تاریخی حقیقت سے ہم آہنگ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم کسی کی ملکیت ہے نہ کسی کا لٹھ بردار بلکہ یہ وہ قوم ہے جس نے چرواہوں سے لے کر جھگی نشین عام انسان تک اپنی سرزمین ساحل اور وسائل کے دفاع میں صدیوں پر محیط جدوجہد کی ہے تاریخ گواہ ہے کہ یہ قوم طاقت کے سامنے وقتی طور پر کمزور ضرور رہی مگر کبھی سرنگوں نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ پارلیمان میں رہتے ہوئے عوام کے حقیقی مسائل امن، روزگار، معاشی انصاف اور سماجی استحکام کو اجاگر کریں نہ کہ ایسے بیانات دیں جو سماج میں مزید تقسیم پیدا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر محترم محمود خان اچکزئی قوموں کی تاریخ اور شناخت طے کرنے سے فرصت نہیں پا سکتے تو کم از کم انہیں اپنی نئی آئینی و پارلیمانی ذمہ داریوں یعنی اپنے 804 پر توجہ مرکوز کر لینی چاہیے تاکہ ایوان کے اندر جمہوریت محض ایک رسمی لفظ بن کر نہ رہ جائے۔