|

وقتِ اشاعت :   February 3 – 2026

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو بورڈ کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا، جس میں کوئٹہ شہر میں ٹریفک کے بہاؤ اور مینجمنٹ، روڈ سیفٹی، ٹریفک کنٹرول و مانیٹرنگ، ٹریفک سگنلز کی تنصیب اور دیگر متعلقہ امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے کوئٹہ شہر میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے فیز ون ٹریفک پلان سے متعلق ایجنڈا آئٹمز کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ پہلے مرحلے کے تمام منصوبے مئی 2026 تک مکمل کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ہی فیز ٹو ٹریفک پلان کو جلد حتمی شکل دے کر اس پر عملدرآمد کے لیے واضح لائحہ عمل ترتیب دینے کی بھی ہدایت کی گئی۔

وزیر اعلیٰ نے مطلوبہ افرادی قوت کی بھرتیوں کا عمل کنٹریکچول بنیادوں پر مکمل شفافیت اور میرٹ کے مطابق کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے اس مقصد کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیجیٹل ہائرنگ سسٹم اپنانے پر زور دیا۔ انہوں نے مجوزہ ٹریفک پلان کے حوالے سے بھرپور عوامی آگاہی مہم چلانے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس میں ٹریفک کی بہتر روانی سے متعلق پیش کیے گئے تمام ایجنڈا آئٹمز کی منظوری دی گئی، جبکہ ایس ایس پی ٹریفک کو مجوزہ پلان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔ پلان کے تحت شہر کے بعض علاقوں میں ون وے ٹریفک کے نفاذ اور ہم آہنگ (سینکرونائزڈ) ٹریفک سگنلز کی تنصیب کی بھی منظوری دی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ تجویز کردہ نظام کے تحت ڈیجیٹل کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم قائم کیا جائے گا، جبکہ ٹریفک کے بہاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے یو ٹرنز اور انٹرسیکشنز سے متعلق اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ٹریفک کی روانی کے لیے بہترین مینجمنٹ ناگزیر ہے اور اہم چوکوں پر ٹریفک کے خلل سے بچاؤ کے لیے انٹرسیکشنز کی مؤثر مانیٹرنگ کو مزید بہتر بنایا جائے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مجوزہ پلان پر عملدرآمد کے لیے بین الاقوامی شہرت یافتہ کنسلٹنٹس کی دلچسپی صوبائی حکومت پر ان کے اعتماد کا مظہر ہے۔

اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری ٹرانسپورٹ میر لیاقت لہڑی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔