|

وقتِ اشاعت :   February 6 – 2026

بی بی سی میں شائع ہونے والے بیان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ملک میں کسی بھی بیرونی یا غیر ریاستی گروہ کی موجودگی کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہے

انھوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا ہے کہ ’ہم یقین دلاتے ہیں کہ افغانستان محفوظ ہے، یہاں کوئی بیرونی یا شدت پسند گروہ موجود نہیں۔‘

ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کرتے ہوئے لکھا کہ ’داعش کو افغانستان میں شکست دی گئی ہے لیکن بدقسمتی سے اس نے پڑوسی ممالک میں ٹھکانے بنا لیے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’جب ہم کہتے ہیں کہ افغانستان کی زمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، اس کا مطلب ہے کہ کسی کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔‘

طالبان کے ترجمان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں داعش سمیت دیگر غیر ملکی گروہوں کی افغانستان میں موجودگی پر تشویش ظاہر کی گئی

اقوامِ متحدہ کی انسدادِ دہشت گردی کمیٹی کی سربراہ ناتالیا گیرمن نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ میں داعش نے دنیا بھر میں دہشت گرد حملے کیے ہیں جن کے تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔

پاکستان، چین، امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ممالک کے نمائندوں نے افغانستان میں داعش کی شاخ خراسان کی موجودگی کو خطے اور دنیا کے لیے ’سنگین خطرہ‘ قرار دیا۔

یاد رہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد اس تنظیم نے افغانستان میں متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نمائندے عاصم افتخار احمد نے بھی کہا ہے کہ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد دہشت گرد گروہوں نے نئی جان پکڑ لی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان نے تقریباً چار ماہ سے دہشت گردی، خصوصاً تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے متعلق خدشات کے باعث افغانستان کے ساتھ تجارت اور آمدورفت روک دی ہے۔