بی بی سی میں شائع ہونے والے بیان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ملک میں کسی بھی بیرونی یا غیر ریاستی گروہ کی موجودگی کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہے
انھوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا ہے کہ ’ہم یقین دلاتے ہیں کہ افغانستان محفوظ ہے، یہاں کوئی بیرونی یا شدت پسند گروہ موجود نہیں۔‘
ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کرتے ہوئے لکھا کہ ’داعش کو افغانستان میں شکست دی گئی ہے لیکن بدقسمتی سے اس نے پڑوسی ممالک میں ٹھکانے بنا لیے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’جب ہم کہتے ہیں کہ افغانستان کی زمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، اس کا مطلب ہے کہ کسی کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔‘
طالبان کے ترجمان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں داعش سمیت دیگر غیر ملکی گروہوں کی افغانستان میں موجودگی پر تشویش ظاہر کی گئی
اقوامِ متحدہ کی انسدادِ دہشت گردی کمیٹی کی سربراہ ناتالیا گیرمن نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ میں داعش نے دنیا بھر میں دہشت گرد حملے کیے ہیں جن کے تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔
پاکستان، چین، امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ممالک کے نمائندوں نے افغانستان میں داعش کی شاخ خراسان کی موجودگی کو خطے اور دنیا کے لیے ’سنگین خطرہ‘ قرار دیا۔
یاد رہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد اس تنظیم نے افغانستان میں متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نمائندے عاصم افتخار احمد نے بھی کہا ہے کہ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد دہشت گرد گروہوں نے نئی جان پکڑ لی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ پاکستان نے تقریباً چار ماہ سے دہشت گردی، خصوصاً تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے متعلق خدشات کے باعث افغانستان کے ساتھ تجارت اور آمدورفت روک دی ہے۔