|

وقتِ اشاعت :   February 11 – 2026

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی اجلاس :صوبائی وزیر  علی مدد جتک  نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان اس وقت مفادات کی جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔ پاکستان کا آئین کسی کو بندوق اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ بی ایل اے ایک دہشت گرد تنظیم ہے جس نے سیکورٹی فورسز اور مظلوم مزدوروں کا قتل عام کیا ہے۔

 

ہم چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو روزگار ملے۔ کیا دوسرے صوبوں میں بے روزگاری نہیں ہے، وہاں لوگ بندوق کیوں نہیں اٹھاتے؟ فورسز نے دہشت گردوں کو شکست دی اور صوبے کے عوام فورسز کے ساتھ ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف سب اٹھ کر مقابلہ کریں۔ ہمیں بہادر وزیراعلیٰ بلوچستان ملا ہے۔ 31 جنوری کو دہشت گردوں نے بلوچ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

 

بندوق سے ہمیں دریا نہیں جاسکتا۔اجلاس سے مولانا ہدایت الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  31 جنوری کو ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتا ہوں۔ بندوق کے زور پر کسی علاقے کو آزاد نہیں کرایا جا سکتا، اگر بندوق کے زور پر آزادی ممکن ہوتی تو کشمیر آزاد ہو چکا ہوتا۔ بندوق کے زور پر ملک کی حفاظت بھی نہیں ہو سکتی، نہ ہی کوئی اپنا نظریہ مسلط کر سکتا ہے اور نہ ہی ترقی ممکن ہے۔ ہمیں دلوں کو فتح کرنے کی ضرورت ہے۔
— مولانا ہدایت الرحمان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *