|

وقتِ اشاعت :   February 14 – 2026

کوئٹہ : کوئٹہ کی رہائشی علشبہ سمالانی نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جبری طور پر لاپتہ کئے گئے میرے بھائی حسنین احمد سمالانی کا 12 روز گزرنے کے باوجود پتہ نہیں چل سکا اور تا حال اسے کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی ہمیں کچھ معلومات دی جارہی ہے جس کی وجہ سے ہمارا خاندان شدید ذہنی کوفت میں مبتلا ہے

یہ بات انہوں نے ہفتہ کو عدالت روڈ پر لگائے گئے بلوچ فار مسنگ پرسنز کے کیمپ میں چیئرمین نصر اللہ بلوچ اور حوران بلوچ کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ 3 فروری کی شب سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ہمارے گھر واقع اصغر آباد سریاب کسٹم پر بغیر سرچ وارننگ کے چھاپہ مارا اور مکمل تلاشی لینے کے بعد میرے چھوٹے بھائی 16 سالہ حسنین احمد ولد بابل جان سمالانی جو ایک طالب علم ہے کو حراست میں پوچھ گچھ کا کہہ کر اپنے ہمراہ لے گئے متعدد بار انتظامیہ سے رابطہ کرنے کے باوجود ہمیں کوئی معلومات نہیں دی جارہی

12 روز گزرنے کے باوجود حسنین احمد کو کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی ہمیں اس کی خیریت سے آگاہ کیا جارہاہے جس کی وجہ سے ہمارا خاندان شدید ذہنی کوفت میں مبتلا ہے انہوں نے کہا کہ معصوم بے گناہ شہریوں کو اس طرح ماورائے قانون گرفتار کرکے جبری لاپتہ کرنا شہریوں کی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اس لئے ہماری اعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ اس کی جبری گمشدگی کا نوٹس لیا جائے اور بحفاظت بازیابی کیلئے کردار ادا کرتے ہوئے ہمیں اس ذہنی کوفت سے نجات دلائی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *