برطانیہ کے سابق شاہی رکن اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈزر کو مبینہ طور پر عوامی عہدے میں بدعنوانی (misconduct in public office) کے شبہے میں گرفتار کر لیا گیا ہے، برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق۔
تھیمز ویلی پولیس کی جانب سے جمعرات کو جاری بیان میں کہا گیا تحقیقات کے سلسلے میں آج (19 فروری) نورفوک سے تعلق رکھنے والے ساٹھ کی دہائی کے ایک شخص کو عوامی عہدے میں بدعنوانی کے شبہے میں گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ برکشائر اور نورفوک میں مختلف مقامات پر تلاشی لی جا رہی ہے۔
پولیس نے برطانوی قانون کے مطابق ملزم کا نام ظاہر نہیں کیا۔جب پولیس سے پوچھا گیا کہ آیا اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈزر کو گرفتار کیا گیا ہے تو فورس نے اپنے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ ساٹھ سال سے زائد عمر کے ایک شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ سابق شہزادہ آج 66 برس کے ہو گئے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا مکمل جائزے کے بعد ہم نے عوامی عہدے میں مبینہ بدعنوانی کے اس الزام کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ہماری کوشش ہے کہ تحقیقات کی سالمیت اور غیر جانبداری کو برقرار رکھا جائے، اور ہم اپنے شراکت دار اداروں کے ساتھ مل کر اس مبینہ جرم کی تفتیش کر رہے ہیں۔ہم اس معاملے میں عوامی دلچسپی سے آگاہ ہیں اور مناسب وقت پر مزید معلومات فراہم کریں گے۔
مرحوم ملکہ کے پسندیدہ بیٹے اور برطانوی اسٹیبلشمنٹ میں اہم عہدوں پر فائز رہنے والے سابق شہزادے کی ساکھ میں بتدریج کمی اس وقت شروع ہوئی جب ان کے روابط سزا یافتہ پیڈوفائل جیفری ایپسٹین کے ساتھ سامنے آئے۔گزشتہ سال ان کے بڑے بھائی، بادشاہ چارلس، نے ان سے شاہی اعزازات واپس لے لیے تھے۔ انہیں ونڈزر اسٹیٹ میں واقع اپنی رہائش گاہ رائل لاج چھوڑنے پر بھی مجبور کیا گیا اور وہ سینڈرنگھم منتقل ہو گئے تھے، جہاں سے آج صبح انہیں گرفتار کیا گیا۔
یہ واقعہ برطانوی بادشاہت کی ساکھ کے لیے ایک اور دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔گزشتہ ہفتے بادشاہ اور ملکہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اگر پولیس نے درخواست کی تو وہ تحقیقات میں مکمل تعاون کریں گے۔ بیان میں اینڈریو کا حوالہ صرف “مسٹر ماؤنٹ بیٹن ونڈزر” کے طور پر دیا گیا، جسے شاہی خاندان کی جانب سے فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
Leave a Reply