|

وقتِ اشاعت :   February 27 – 2026

راولپنڈی: پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایاکہ 22اور23کی درمیانی شب پاکستان نے ایک کارروائی کی جس کی وزارت داخلہ تفصیلات شیئر کرچکی ہے جس دوران ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کونشانہ بنایاگیاتھا، گزشتہ رات پاک افغان بارڈرپرافغانستان کی طرف سے  پاکستان کے 15 سیکٹرز  میں 53مقامات پر حملہ کیاگیا لیکن کسی ایک مقام پربھی انہیں کوئی کامیابی نہیں مل سکی، اب تک 274طالبان ہلاک کیے جاچکے ہیں،73پوسٹ مکمل طورپر تباہ اور18 ہماری تحویل میں ہیں، اس کارروائی میں 12 شہید، 27 زخمی اور ایک لاپتہ ہے۔


نیوزکانفرنس سے خطاب میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہاکہ “پہلے انڈیا کو شوق ہوا تھا، ان کا شوق پورا کیا، اب افغانستان کو شوق ہوا کہ وہ بھی دیکھ لیں، افواج پاکستان کےآگے پیچھے دائیں بائیں اس ملک کے عوام کھڑے ہیں”۔انہوں نے مزید کہا کہ “”پاکستان میں کسی جگہ پر کوئی دہشتگردی کا واقعہ کراتا ہے ، جس طرح وہ دعویٰ کرتے ہیں تو نہ صرف دہشتگردوں کو بلکہ ان کے سرپرستوں اور ان کا تحفظ کرنے والوں کی بھی کوئی جگہ محفوظ نہیں ہوگی، جواب ملے گا، ہم سب کے حقوق برابر ہیں”۔

 

ڈی جی آئی ایس پی آر کاکہناتھاکہ افغان رجیم کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اسے ٹی ٹی پی ، بی ایل اے سمیت دیگر کا انتخاب کرے یا پھر پاکستان کا، ہمارا انتخاب واضح ہے اور ہر چیز پر پاکستان مقدم ہے  اور ہم اس کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے کبھی نہیں جھجھکے ۔

 

ان کاکہنا تھاکہ  وزیراعظم سے بھی آپریشن غضب للحق کی تفصیلات شیئر کردی ہیں، دنیا نے بھی دیکھ لیا کہ پاکستان ہمہ وقت جواب دینے کے لیے تیار ہے، کسی ایک بھی مقام پر انہیں کوئی کامیابی نہیں مل سکی جو کواڈ کاپٹر بھی ساتھ لائے تھے اور چھوٹے بڑے ہتھیار بھی تھے لیکن پاکستان کی مسلح افواج نے منہ توڑ جواب دیا۔


انہوں نے بتایاکہ اب تک 274ہلاک کیے جاچکے ہیں،400 سے زائد زخمی ہیں، 73پوسٹ مکمل طورپر تباہ کردی گئیں اور18 ہماری تحویل میں ہیں، اب تک ایک محتاط اندازے کے مطابق 150 ٹینکس اور بکتر بند گاڑیاں تباہ ہوچکی ہیں، وہ ہیڈکواٹر اور دفاعی مقامات فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، ان کو چن چن کر نشانہ بنایاگیا، فضائی نشانوں میں کابل سمیت22مقامات پر اہداف لیے گئے جس دوران انتہائی احتیاط کی گئی تاکہ کوئی سویلین نشانہ نہ بنے۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *