|

وقتِ اشاعت :   6 days پہلے

مجمع تشخیص مصلحت نظام کے ترجمان محسن دہنوی نے آیت اللہ علی رضا اعرافی کو عبوری قیادت کونسل میں مجلس خبرگان رهبری کے فقہی عہدے کے رکن کے طور پر منتخب کرنے کا اعلان کیا ہے۔

علی خامنہ ای کے قتل کے بعد صدر، عدلیہ کے سربراہ اور گارڈین کونسل کے ایک فقیہ کو ممبر کے طور پر ایک عارضی لیڈرشپ کونسل تشکیل دی جائے گی۔

ایرانی آئین کے آرٹیکل 111 کے مطابق رہبرِ اعلیٰ کی موت، استعفے یا برطرفی کی صورت میں ملک کے صدر، عدلیہ کے سربراہ اور نگہبان شوریٰ کے ایک رکن رہبرِ اعلیٰ کی ذمہ داریاں اٹھاتے ہیں۔

آئین کے اس آرٹیکل کے مطابق اگر ان تین افراد میں سے کوئی ان ذمہ داریوں سے معذوری کا اظہار کرے تو پھر ان کی جگہ ’مجمع تشخیص مصلحت نظام‘ (فقہا کی اکثریت) ان کی جگہ نیا رکن مقرر کرے گی۔

اس کے بعد مرحلہ رہبرِ اعلیٰ کی تقرری کا آتا ہے۔ اس عہدے کے لیے کسی شخصیت کا انتخاب مجلس خبرگان رهبری کرتی ہے۔ یہ 88 فقہا کی ایک اسمبلی ہے، جس کے اراکین کا انتخاب ہر آٹھ برس کے بعد ہوتا ہے۔

تاہم اس انتخاب سے قبل جانچ پڑتال کا کام نگہبان شوریٰ سرانجام دیتی ہے، جس میں سنہ 2024 میں خامنہ ای کے وفادار تمام نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

مجلس خبرگان رهبری کو ’جتنی جلدی ممکن ہو سکے‘ رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب کرنا ہوتا ہے لیکن اس کے لیے معیاد کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ اگر مجلس خبرگان رهبری دو تہائی اکثریت سے کسی کو رہبرِ اعلیٰ منتخب نہیں کرتی تو پھر تکنیکی طور پر عبوری کونسل ہی رہبرِ اعلیٰ کی ذمہ داریاں اُٹھاتی ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *